World
امریکی عدالت کا ٹرمپ کا ہنگامی حکم مسترد کرنے کا فیصلہ
امریکی عدالت نے محکمہ توانائی کے اس حکم کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت مشی گن کے ایک کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کو زبردستی کھلا رکھنے کا کہا گیا تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ محکمہ توانائی نے اس پلانٹ کی مدت میں توسیع کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔
امریکی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ہنگامی حکم کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت مشی گن کے ایک کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹ کو لازمی طور پر کھلا رکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی محکمہ توانائی نے اس پلانٹ کی مدتِ کار میں توسیع کر کے اپنے قانونی اختیارات سے تجاوز کیا ہے، جو کہ ضابطے کے خلاف ہے۔ یہ فیصلہ ماحولیاتی تحفظ اور قانونی دائرہ اختیار کی جنگ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قانون کے تحت محکموں کو محدود اختیارات حاصل ہیں اور وہ من مانے طریقوں سے توانائی کے منصوبوں کی مدت میں توسیع نہیں کر سکتے۔ ماہرین کے مطابق اس عدالتی فیصلے کے بعد ملک بھر میں توانائی کی پالیسیوں اور وفاقی مداخلت کے حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ دوسری جانب محکمہ توانائی کے حکام نے عدالتی فیصلے کا باریک بینی سے جائزہ لینے کا عندیہ دیا ہے تاکہ آئندہ کے لائحہ عمل کا تعین کیا جا سکے جبکہ ماحولیاتی تنظیموں نے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے اسے قانون کی حکمرانی قرار دیا ہے۔