LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی: انتھروپک کے سی ای او کا انتباہ

News Image
انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے سپر انٹیلیجنٹ سسٹمز کے خطرات کے پیش نظر اے آئی انڈسٹری سے ترقی کی رفتار دھیمی کرنے کی اپیل کی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ ماہرین کی جانب سے کمپنیوں پر انسانیت کی زندگیوں سے جواء کھیلنے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) بنانے والی معروف کمپنی انتھروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) ڈاریو امودی نے ہفتے کے روز تمام اے آئی کمپنیوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طاقتور ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کو سست کر دیں۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سپر انٹیلیجنٹ کمپیوٹر سسٹمز کے ممکنہ خطرات کے حوالے سے دنیا بھر میں تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاریو امودی کا یہ بیان ایک ایسے واقعے کے چند روز بعد آیا ہے جب اے آئی کے ایک معروف محقق جیکب کوکسن نے اوپن اے آئی چھوڑ کر انتھروپک میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد بالآخر پوری انڈسٹری ہی چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور دونوں بڑی امریکی کمپنیوں پر یہ الزام لگایا کہ وہ خود کو بہتر بنانے والے ماڈلز کی دوڑ میں انسانی زندگیوں کے ساتھ جوا کھیل رہی ہیں۔ اپنے ذاتی بلاگ پر جاری کردہ ایک بیان میں ڈاریو امودی کا کہنا تھا کہ ہمیں اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کی رفتار کو لازمی طور پر دھیمی کرنا ہوگا۔ اس کے باوجود ترقی کی رفتار تیز ہی محسوس ہوگی اور ہمیں اس بچنے والے وقت کا دانشمندانہ استعمال کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت اپنے ساتھ بے پناہ خطرات لاتی ہے اور چونکہ یہ ٹیکنالوجی انتہائی طاقتور ہے اس لیے اس کے خطرات بھی اتنے ہی سنگین ہیں۔ امودی نے مزید کہا کہ اس ٹیکنالوجی کو بالکل نہ بنانا انسانیت کو اس کے فوائد سے محروم کرنے کے مترادف ہے یا پھر اسے آمرانہ طاقتوں کے ہاتھ میں دے سکتا ہے، تاہم اسے ضرورت سے زیادہ تیزی سے بنانا غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ ہم نے ہمیشہ ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن گزشتہ چند مہینے کے دوران مجھ پر یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان خطرات سے پوری طرح نمٹنے کے لیے اور بھی زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ ڈاریو امودی کا یہ بیان جون کے اوائل میں انتھروپک کی جانب سے دی گئی اس اپیل سے مطابقت رکھتا ہے جس میں ترقی کو سست یا معطل کرنے کا کہا گیا تھا۔ اس کے علاوہ جولائی کے آخر میں انتھروپک کی حریف کمپنی اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹ مین نے بھی کہا تھا کہ ڈویلپرز کو رضاکارانہ طور پر اپنی تیز رفتار پیش قدمی کو بریک لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ معاشرے کو اس کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے کا موقع مل سکے۔ اسی دوران مختلف جدید اے آئی کمپنیوں سے وابستہ ایک ہزار سے زائد ملازمین نے امریکی حکومت کے نام ایک پٹیشن پر دستخط کیے تھے جن کا مطالبہ تھا کہ حکومت خودکار اے آئی کی ترقی کی حدود کو جان بوجھ کر اعتدال میں لانے کے لیے کردار ادا کرے۔ ادھر نوجوان محقق کوکسن نے اپنی پوسٹ میں انکشاف کیا تھا کہ یہ کمپنیاں تیزی سے خود کو بہتر بنانے والی سپر انٹیلیجنس کی دوڑ میں لگی ہوئی ہیں اور انہیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ اس سے سنگین نوعیت کے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔