LIVE
Loading Breaking News...

اعتماد بمقابلہ صلاحیت - انسانی فیصلے اور جدید رجحانات

News Image
انسانی تاریخ میں لاعلمی کا اعتراف کرنا ہمیشہ سے غلطیوں سے بچاؤ کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ تاہم، موجودہ دور میں زیادہ اعتماد کو صلاحیت پر فوقیت دینے کا رجحان خطرناک بحران پیدا کر رہا ہے۔
صدیوں سے انسانی عقل اور فیصلے کو غلطیوں سے بچانے کے لیے ایک انتہائی مختصر مگر پُرتاثیر جملہ استعمال ہوتا رہا ہے، اور وہ ہے 'میں نہیں جانتا'۔ مختلف زبانوں میں ادا کیے جانے والے ان الفاظ نے ہمیشہ ہمارے فوری تاثر اور کسی حتمی نتیجے کے درمیان ایک جادوئی وقفہ پیدا کیا۔ یہ وہ فضیلت بھری جگہ تھی جہاں انسان سوچ بچار کرتا تھا، اپنے محدود علم کا اعتراف کرتا تھا اور بڑے فیصلوں سے پہلے احتیاط سے کام لیتا تھا۔ اس مکالمے کی بدولت معاشروں نے عجلت میں کیے جانے والے خطرناک فیصلوں سے ہمیشہ خود کو بچایا۔ تاہم، جدید دور میں حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ آج کے مسابقتی ماحول میں، خصوصاً کارپوریٹ دنیا، سیاست اور ڈیجیٹل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر، خام صلاحیت کے مقابلے میں بلند بانگ اعتماد کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔ جو شخص پراعتماد انداز میں بات کرتا ہے، اسے اکثر زیادہ قابل سمجھ لیا جاتا ہے چاہے اس کے پاس متعلقہ موضوع پر گہرا علم یا تجربہ موجود نہ ہو۔ یہ رجحان نہ صرف اداروں کے اندر غلط فیصلوں کا باعث بن رہا ہے بلکہ مجموعی طور پر معاشرتی رویوں میں بھی سطحی پن کو فروغ دے رہا ہے۔ ماہرینِ نفسیات اور مفکرین کا ماننا ہے کہ 'اعتماد' اور 'صلاحیت' کے درمیان یہ بڑھتا ہوا عدم توازن مستقبل میں بڑے بحرانوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جب نااہل لیکن پراعتماد افراد اہم مناصب پر فائز ہوتے ہیں تو ان کے فیصلے اکثر سنگین نتائج کا سبب بنتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک بار پھر عاجزی، حقیقت پسندی اور سچے علم کی قدر کو بحال کریں، تاکہ محض الفاظ کی چمک دمک کے بجائے اصل اور ٹھوس صلاحیت کی بنیاد پر فیصلے کیے جا سکیں۔