LIVE
Loading Breaking News...

سی آئی اے اور وائے ٹو کے: نئی خفیہ دستاویزات سے بڑے انکشافات

News Image
حال ہی میں جاری ہونے والی سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ نائن الیون سے پہلے امریکی انٹیلی جنس ادارے جدید ٹیکنالوجی کے خطرات سے پریشان تھے۔ ایجنسی کو شدید خدشہ تھا کہ شدت پسند تنظیمیں سال دو ہزار کی کمپیوٹر خرابی یعنی وائے ٹو کے بگز کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔
امریکی انٹیلی جنس ادارے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے حال ہی میں ڈی کلاسفائیڈ یعنی غیر خفیہ کی جانے والی دستاویزات نے ماضی کے کئی اہم رازوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ ان نئی اور تفصیلی ریکارڈنگز اور رپورٹس سے پتا چلتا ہے کہ نائن الیون کے المناک واقعات سے پہلے امریکی تجزیہ کار کس طرح ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل دنیا کے خطرات کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس وقت کے دوران دنیا بھر میں نئے سال یعنی سن دو ہزار کی آمد کے موقع پر کمپیوٹر سسٹمز میں خرابی کا خطرہ منڈلا رہا تھا جسے عام طور پر وائے ٹو کے (Y2K) کے نام سے جانا جاتا تھا۔ دستاویزات کے مطابق، سی آئی اے کے اندرونی حلقوں میں اس بات پر شدید بحث جاری تھی کہ اس تکنیکی بگاڑ اور عالمی کمپیوٹر نظام میں خرابی کا فائدہ اٹھا کر دہشت گرد نیٹ ورکس کیا کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ حکام کو یہ شدید خدشہ تھا کہ دنیا بھر کے مالیاتی اداروں، مواصلاتی نظام اور اہم بنیادی ڈھانچے میں آنے والی گڑبڑ کو شدت پسند تنظیمیں سائبر حملوں یا افراتفری پھیلانے کے لیے استعمال کر سکتی ہیں۔ اگرچہ بعد میں دنیا بھر کے انجینئرز اور ماہرین نے بروقت اقدامات کر کے وائے ٹو کے کے ممکنہ بڑے بحران کو ٹال دیا تھا، تاہم اس دور کے انٹیلی جنس جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل خطرات کا خوف اس وقت بھی امریکی سلامتی کے اداروں کی ترجیحات میں سرفہرست تھا۔ اس کے علاوہ، ان دستاویزات میں اس دور کے دیگر تکنیکی خطرات کا بھی احاطہ کیا گیا ہے جن میں شدت پسندوں کی جانب سے انٹرنیٹ اور ویب سائٹس کے استعمال کے ابتدائی جائزے بھی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹس اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ ڈیجیٹل دور کے آغاز ہی سے انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ مستقبل میں روایتی جنگ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ محاذ بھی قومی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ آج بھی جب دنیا مصنوعی ذہانت اور پیچیدہ سائبر حملوں کا سامنا کر رہی ہے، ماضی کے یہ ریکارڈز بتاتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے خدشات کتنے پرانے اور گہرے ہیں۔