Business
یورپی یونین تجارتی ترجیحی رسائی جی ایس پی پلس پاکستان
یورپی یونین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کو تجارتی ترجیحی رسائی حاصل کرنے کے لیے نئے قوانین کے تحت دوبارہ درخواست جمع کرانا ہوگی۔ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے انسانی حقوق کے خدشات پر بھی بات چیت کی جا رہی ہے۔
یورپی یونین نے پاکستان کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ اسے ترجیحی تجارتی رسائی یعنی جی ایس پی پلس (GSP+) اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے نئے اور سخت قوانین کے تحت دوبارہ درخواست جمع کرانا ہوگی۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کے لیے اس تجارتی فائدے کو جاری رکھنے کی راہ میں کئی چیلنجز حائل ہیں۔ تجارتی ماہرین کے مطابق، نئے اصولوں کے نفاذ سے پاکستان کو یورپی مارکیٹ میں اپنی برآمدات کو مستحکم رکھنے کے لیے سفارتی اور معاشی سطح پر بھرپور کوششیں کرنا ہوں گی۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جی ایس پی پلس اسکیم کے تحت یورپی یونین کو پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، جس نے ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، اب بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کے تناظر میں، یورپی حکام کی جانب سے انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق سمیت دیگر اہم امور پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجارتی حلقوں میں اس بات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کو نہ صرف تکنیکی تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا بلکہ متعلقہ عالمی معیارن پر بھی پورا اترنا ہوگا تاکہ یہ تجارتی سہولت معطل نہ ہو۔ حکومت پاکستان اس معاملے پر یورپی یونین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور متعلقہ وزارتیں نئے ضوابط کا جائزہ لے رہی ہیں تاکہ وقت پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے جا سکیں۔