Politics
بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف سخت اقدامات اور وزیراعلیٰ کا بیان
بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔
کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے اپنے ایک سخت بیان میں واضح کیا ہے کہ صوبے میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک ریاست کی طرف سے کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ حکومت کا عزم مصمم ہے کہ جب تک صوبے سے آخری دہشت گرد کا صفایا نہیں ہو جاتا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ وزیراعلیٰ نے یہ بھی واضح کیا کہ ان عناصر کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں ہے جنہوں نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں اور معصوم شہریوں کا خون بہایا ہے۔ صوبے کی موجودہ سلامتی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دشمن قوتیں بلوچستان کے امن کو تباہ کرنے کی سازشیں کر رہی ہیں لیکن حکومت اور ادارے ان کے تمام ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترقی اور خوشحالی کا سفر صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب صوبہ دہشت گردوں اور تخریب کاروں سے مکمل طور پر پاک ہو جائے۔ دوسری جانب، سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے امن کے حصول کے لیے جامع حکمت عملی اپنانے پر بھی زور دیا جا رہا ہے، تاہم حکومت کا بنیادی ہدف فی الحال ریاست مخالف عناصر کے خلاف آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ تعاون کریں تاکہ صوبے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے اور عام آدمی کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔