World
برکس کا مشرق وسطیٰ میں امن اور تحمل کا مطالبہ
برکس ممالک نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور جنگ کے خطرات کے پیش نظر فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات نے بھی اس مشترکہ بیان کی حمایت کی ہے جس میں عالمی تجارت کے تسلسل پر زور دیا گیا ہے۔
برکس تنظیم میں شامل ممالک نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں شروع کر دی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق برکس کے حالیہ اجلاس میں تمام فریقین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے مشترکہ بیان کی ایران اور متحدہ عرب امارات نے بھی بھرپور حمایت کی ہے، جس سے اس سفارتی کوشش کو مزید تقویت ملی ہے۔
اجلاس کے دوران رہنماؤں نے اس بات پر بھی شدید زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں عالمی تجارت کا بلا تعطل اور ہموار بہاؤ یقینی بنایا جائے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر خلیجی خطے میں جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائن پر پڑیں گے، اسی لیے برکس پلیٹ فارم سے اقتصادی استحکام اور امن کی بحالی کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ برکس رہنماؤں نے غزہ کے معاملے پر بھی دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی سخت مخالفت کی ہے۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خطے کے دیرینہ تنازعات کا پُرامن حل نکالا جانا نہایت ضروری ہے تاکہ یوکرین اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگوں کے درمیان دنیا کو مزید انسانی بحرانوں سے بچایا جا سکے۔ عالمی برادری نے برکس کی اس امن کی کوشش کو سراہا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ اس سے کشیدگی میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔