LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران ناکہ بندی: سو تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل

News Image
امریکی بحریہ کی جانب سے ایران کے ارد گرد لگائی گئی بحری ناکہ بندی کے باعث اب تک سو کے قریب تجارتی جہازوں کو اپنا روٹ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ اس اہم پیش رفت سے خلیجی خطے میں تجارتی سرگرمیاں اور بحری نقل و حرکت شدید متاثر ہوئی ہے۔
امریکی فوجی حکام کے مطابق خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے خلاف عائد کی جانے والی سخت بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں اب تک ایک سو کے قریب تجارتی بحری جہازوں کو اپنا روٹ تبدیل کرنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔ دو ماہ کے دوران پیش آنے والی ان کارروائیوں نے بین الاقوامی سمندری تجارت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں اور عالمی منڈی میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس ناکہ بندی کا بنیادی مقصد ایرانی بحری راستوں اور نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اقدامات کو سخت کرنا ہے۔ بحری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے گزرنے والے جہازوں کو شدید حفاظتی چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ امریکہ نے خطے سے گزرنے والے آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کے لیے فضائی دفاعی وقت کی کھڑکیوں کو بھی محدود کر دیا ہے۔ مالیاتی اور خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف بحری سفر کا دورانیہ طویل ہو گیا ہے بلکہ جہاز رانی کمپنیوں کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی حساس اور اہم ترین گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے دنیا بھر کا ایک بڑا حصہ توانائی کی فراہمی حاصل کرتا ہے۔ اس مقام پر سکیورٹی کے سخت انتظامات اور ناکہ بندی کے باعث تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت سست پڑ گئی ہے جبکہ متعلقہ حکام صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔