LIVE
Loading Breaking News...

اسپرنگر نیچر اوپن ایکسس رپورٹ 2025: اہم انکشافات

News Image
اسپرنگر نیچر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق سنہ 2025 میں ٹرانسفارماتیو معاہدوں کے ذریعے اوپن ایکسس پبلشنگ میں بارہ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ معاہدے دنیا بھر میں سائنسی اور تعلیمی مواد تک رسائی کو مزید آسان اور عام بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
نئی دہلی: معروف عالمی پبلشر اسپرنگر نیچر نے اپنی پانچویں سالانہ اوپن ایکسس (Open Access) رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سنہ 2025 کے دوران ٹرانسفارماتیوی معاہدوں (Transformative Agreements) کے ذریعے اوپن ایکسس پبلشنگ میں بارہ فیصد تک کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ عالمی سطح پر تحقیقی مواد کو بلا رکاوٹ اور مفت فراہم کرنے کی سمت میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسپرنگر نیچر کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پبلشر نے اس دوران انیس نئے معاہدے کیے جبکہ سترہ معاہدوں کی تجدید بھی کی گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں اب اوپن ایکسس کے ماحولیاتی نظام کو اپنانے میں گہری دلچسپی لے رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ معاہدے دنیا بھر کے محققین اور سائنسدانوں کے لیے تحقیق کی اشاعت کے عمل کو زیادہ شفاف اور آسان بناتے ہیں۔ روایتی اشاعتی نظام کے برعکس، جہاں قارئین یا اداروں کو مضامین پڑھنے کے لیے بھاری فیس ادا کرنی پڑتی ہے، اوپن ایکسس ماڈل تحقیق کو دنیا بھر کے ہر خاص و عام کے لیے یکساں طور پر دستیاب بناتا ہے۔ اسپرنگر نیچر کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے نہ صرف تحقیقی مقالوں کے حوالے اور ان کا اثر (Citation and Impact) بڑھتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر علمی تعاون کے نئے دروازے بھی کھلتے ہیں۔ اسپرنگر نیچر کی یہ پانچویں رپورٹ اس بات کی بھی توثیق کرتی ہے کہ جب پبلشرز اور تعلیمی ادارے باہمی اشتراک کار کے تحت کام کرتے ہیں تو اوپن ایکسس کی طرف منتقلی کا عمل تیز ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران اس سمت میں کی جانے والی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور زیادہ سے زیادہ ریسرچ اسکالرز اپنے کام کو اوپن ایکسس جریدوں میں شائع کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے برسوں میں ان معاہدوں کا دائرہ کار مزید وسیع ہوگا، جس سے دنیا بھر کے پس ماندہ خطوں کے محققین کو بھی جدید ترین سائنسی معلومات تک مفت رسائی حاصل ہو سکے گی۔