Business
توانائی کی مہنگائی اور فیڈرل ریزرو کے سود کی شرح کے فیصلے
اگست کے مہینے میں مہنگائی کی شرح میں مسلسل اضافے اور مشرق وسطیٰ کے کشیدہ حالات کی وجہ سے ایندھن کے نرخ بلند ہو گئے ہیں۔ ان معاشی دباؤ کے باعث امریکی فیڈرل ریزرو کے لیے سود کی شرح میں کمی یا تبدیلی کا فیصلہ کرنا انتہائی پیچیدہ ہو چکا ہے۔
امریکی معیشت میں اگست کے دوران مہنگائی کے دباؤ میں کمی نہ آ سکی جس نے مالیاتی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بلومبرگ اور سی این بی سی کی رپورٹس کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں فیڈرل ریزرو کے پالیسی سازوں کے لیے سود کی شرح کے فیصلوں کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سستے قرضوں کی توقعات کو شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ مہنگائی کے اعداد و شمار توقعات سے زیادہ سخت آئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور تنازعات کی وجہ سے تیل اور ایندھن کے نرخ اس سطح پر پہنچ چکے ہیں جہاں عام صارفین اور صنعتوں دونوں کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ سی پی آئی اور پی پی آئی کے اعداد و شمار میں ہونے والے اضافے نے سرمایہ کاروں کے تمام اندازے غلط ثابت کر دیے ہیں۔ اس صورتحال نے بٹ کوائن اور دیگر ڈیجیٹل اثاثوں کے تاجروں کو بھی ایک مشکل دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے کیونکہ مہنگائی کے اس طوفان میں سستی سرمائے کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ فیڈرل ریزرو کے آئندہ اقدامات اب مکمل طور پر ان اقتصادی اشاریوں پر منحصر ہوں گے جو مہنگائی اور توانائی کے شعبے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ایندھن کی قیمتوں میں استحکام نہ آیا تو مرکزی بینک کو شرح سود کے حوالے سے مزید سخت فیصلے کرنا پڑ سکتے ہیں جس کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس سے متاثر ہوگی۔