World
امریکہ میں پہلی بار خصوصی دہشت گرد عدالت کے ذریعے افغان خاتون ملک بدر
امریکہ میں سنہ 1996 میں قائم کی جانے والی خصوصی 'ایلین ٹیررسٹ ریموو کواٹ' کو پہلی بار استعمال کرتے ہوئے ایک افغان خاتون کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ نظیرہ حاجی زادہ کا یہ کیس اس خفیہ عدالت کی تاریخ میں پہلا ایسا موقع ہے جہاں باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
امریکہ میں تارکین وطن کے امور سے نمٹنے والی ایک انتہائی غیر معروف اور خفیہ عدالت کو تاریخ میں پہلی بار استعمال کیے جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ اس کارروائی کے نتیجے میں ایک افغان خاتون کو امریکہ سے ملک بدر کر دیا گیا ہے۔ امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر قانونیحلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا منفرد واقعہ ہے۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ خصوصی عدالت جسے 'ایلین ٹیررسٹ ریموو کورٹ' کہا جاتا ہے، آج سے تقریباً تین دہائیاں قبل سنہ 1996 میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد قومی سلامتی کو درپیش خطرات کے تناظر میں مشتبہ غیر ملکی افراد کے انخلا کو یقینی بنانا تھا۔ تاہم، حیرت انگیز طور پر قیام کے بعد سے لے کر اب تک کے طویل عرصے میں اس عدالت کو کبھی بھی فعال نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی اس کے تحت کوئی مقدمہ چلایا گیا تھا۔
حال ہی میں سامنے آنے والے اس قانونی اقدام کی زد میں آنے والی افغان خاتون کی شناخت نظیرہ حاجی زادہ کے نام سے ہوئی ہے۔ نظیرہ حاجی زادہ کے اس ہائی پروفائل کیس کے ذریعے امریکہ نے پہلی بار اپنی اس مخصوص قانونی اور عدالتی قوت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ متعلقہ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ عدالتی احکامات اور تمام تر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد خاتون کو ملک بدر کر کے افغانستان واپس روانہ کر دیا گیا ہے۔
اس عدالتی نظیر کے قائم ہونے کے بعد انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین کی جانب سے اس پر مختلف تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکہ میں تارکین وطن کے حقوق اور ملکی سلامتی کے قوانین کے حوالے سے ایک نئے مباحثے کا آغاز ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دیگر زیر التوا یا مشتبہ مقدمات میں بھی اس قسم کے سخت قانونی اختیارات کا استعمال بڑھ سکتا ہے۔