World
برکس سربراہی اجلاس: مشرق وسطیٰ جنگ پر تحمل کی اپیل
نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس میں گیارہ رکنی گروپ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ میں زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا ہے۔ چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پوتن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سمیت دیگر رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
نئی دہلی میں منعقدہ گیارہ رکنی برکس گروپ کے سربراہی اجلاس میں چین، روس، ایران اور بھارت سمیت تمام رکن ممالک نے مشرق وسطیٰ کی جنگ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اجلاس کے دوران تمام رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ جنگ بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفادات کے منافی ہے اور اس سے خطے کے عوام کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچ رہا ہے۔ میزبان بھارت کی جانب سے کی جانے والی شدید سفارتی کوششوں کے نتیجے میں تمام ممالک ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل مئی میں ہونے والے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ایران کے مابین اختلافات کی وجہ سے مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا تھا، جو کہ اب سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اجلاس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ برکس ممالک دنیا کی پچاس فیصد آبادی، چالیس فیصد عالمی جی ڈی پی اور پچیس فیصد سے زائد عالمی تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس اتحاد کو مراعات کے ڈھانچے سے ہٹا کر شراکت داری کے ایک مؤثر پلیٹ فارم میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اجلاس کے دوران ایرانی صدر مسعود پزشکیان بھی موجود تھے جنہوں نے حال ہی میں امریکہ کے اس کردار پر کڑی تنقید کی تھی کہ مشرق وسطیٰ کو کسی علاقائی پولیس مین کی ضرورت نہیں ہے۔ دوسری جانب چینی صدر شی جن پنگ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ تمام ممالک کو دیگر ریاستوں کی خودمختاری کا احترام کرنا چاہیے اور بیرونی مداخلت یا پروٹیکشن ازم کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے اصولوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔
اس سربراہی اجلاس کی ایک اور اہم خاص بات چینی صدر شی جن پنگ کا سال دو ہزار انیس کے بعد پہلا دورہ بھارت تھا، جسے دونوں ایٹمی قوتوں کے مابین کشیدگی میں کمی اور تعلقات کی بحالی کی طرف ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دونوں ممالک متنازع سرحد اور دیگر امور پر پرامن اور باہمی طور پر قابل قبول حل تلاش کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے موجودہ معاہدوں کی پاسداری پر زور دیا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور اقتصادی تعاون کی راہیں ہموار کی جا سکیں، کیونکہ دونوں ممالک کے مابین باہمی تجارت اور سرحدی تنازعات کو لے کر طویل عرصے سے عدم اعتماد پایا جاتا رہا ہے۔
برکس کے اس اجلاس میں توانائی کے بحران، عالمی تجارت اور علاقائی سلامتی کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق خلیجی تنازعہ اس وقت دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے اور برکس جیسے پلیٹ فارمز پر اس نوعیت کے بڑے تنازعات پر مشترکہ موقف اپنانا عالمی سطح پر سفارتی توازن قائم کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اجلاس میں شریک تمام رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دنیا کو مزید کسی بڑی تباہی یا جنگی تصادم سے بچانے کے لیے کثیر جہتی سفارت کاری کو فروغ دینا ہوگا اور عالمی اداروں کی بالادستی کو برقرار رکھنا ہوگا۔