World
پاکستان کا اقوام متحدہ میں دہشت گردی کے خطرات اور ٹی ٹی پی پر مؤقف
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں پاکستان نے دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر کڑی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ کالعدم تنظیمیں جدید ٹیکنالوجی، پروپیگنڈا اور ڈیجیٹل ذرائع کو بھرپور طریقے سے استعمال کر رہی ہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ بدلتے ہوئے دہشت گردانہ خطرات سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے اپنے انسدادِ دہشت گردی کے مکینزم کو مزید مضبوط بنائے اور پابندیوں کے نظام میں موجود خامیوں کو فوری طور پر دور کرے۔ نیویارک میں سلامتی کونسل کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران، جو 9/11 کے حملوں کے پچیس سال مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کیا گیا، پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا خطرہ وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل اور مزید پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اس موقع پر سلامتی کونسل کی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکتوریٹ (CTED) کی ایک نئی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں خبردار کیا گیا کہ دہشت گرد گروہ اپنی پروپیگنڈا مہم، بھرتی کے طریقوں اور فنڈنگ کے حصول کے لیے نئی حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہیں۔ رپورٹ میں خصوصی طور پر کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر بین الاقوامی شدت پسند تنظیموں کا ذکر کیا گیا جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، گیمنگ کمیونٹیز اور سوشل میڈیا کو اپنی کارروائیوں کے لیے استعمال کر رہی ہیں۔ پاکستانی مندوب نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد گروہ اب مصنوعی ذہانت، ڈرونز، ڈارک ویب، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹ کرنسی کا استعمال پروپیگنڈا، فنڈنگ اور حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے کر رہے ہیں۔ انہوں نے افغانستان سے ملحقہ سرحدوں اور اندرونِ ملک جاری خطرات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران چار ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، جبکہ صدی کے آغاز سے اب तक نوے ہزار سے زائد پاکستانی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ٹی ٹی پی اور بی ایل اے سمیت تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرے۔ اجلاس کے دوران دیگر ممالک کے مندوبین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی مالی معاونت کو کاٹنا، پناہ گاہوں کا خاتمہ کرنا اور انٹیلی جنس کا تبادلہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ماہرین نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ انسدادِ دہشت گردی کے نام پر بعض اوقات بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی حدود کو متاثر کیا گیا ہے، جس پر بھی توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔