LIVE
Loading Breaking News...

مائیک ہیسن پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی مستقل کوچنگ کے خواہشمند

News Image
پاکستان کرکٹ ٹیم کے عارضی ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے کہا ہے کہ وہ وائٹ بال کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ ٹیم کی مستقل کوچنگ سنبھالنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستانی کرکٹ سسٹم میں ٹیسٹ فارمیٹ کے لیے کافی ٹیلنٹ موجود ہے جسے بہتر سمت دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے عارضی ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے انگلینڈ کے خلاف سیریز میں شکست کے بعد یہ عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنی موجودہ وائٹ بال کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کی مستقل کوچنگ سنبھالنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ ایجبسٹن میں کھیلے گئے تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ میں آٹھ وکٹوں کی شکست کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ہیسن کا کہنا تھا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ سے محبت کرتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ پاکستان کے کرکٹ سسٹم میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ اگر کھلاڑیوں کو درست سمت فراہم کی جائے تو اس طویل فارمیٹ میں نمایاں ترقی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبدیلیاں ایک یا دو میچوں میں نہیں آ سکتیں، تاہم ٹیم میں ایسے کھلاڑی موجود ہیں جن کی بنیادی صلاحیتوں کو نکھارا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ مائیک ہیسن کو دو ہفتے قبل ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران خراب کارروائی پر سرفراز احمد کی تبدیلی کے بعد عارضی ذمہ داری دی گئی تھی۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ہیسن نے بتایا کہ فی الحال مستقبل کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا کیونکہ وہ دورہ انگلینڈ کے بعد ایشین گیمز کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایشین گیمز کے بعد بورڈ کے ساتھ اس حوالے سے باضابطہ مشاورت کی جائے گی تاکہ مستقبل کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔ انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مائیک ہیسن نے اعتراف کیا کہ پاکستانی ٹیم کے مسائل محض پچھلے چند ہفتوں کے نہیں ہیں بلکہ یہ پچھلے ایک دو سال سے چلے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیسٹ ٹیم کے طور پر بنیادی چیزوں پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے اور یہ مسئلہ صرف پلئینگ الیون کا نہیں بلکہ پورے اسکواڈ کا ہے۔ ہیسن کے مطابق سلیکشن کے عمل میں محض رنز اور وکٹوں کے اعداد و شمار دیکھنے کے بجائے ایسے کھلاڑیوں کو تلاش کرنا ہوگا جن کے پاس ٹیسٹ فارمیٹ سے مطابقت رکھتی مخصوص مہارت ہو۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیم کو تیز رفتار گیند بازی کا سامنا کرنے اور مختلف چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باصلاحیت کھلاڑیوں کو میدان میں اتارنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے سلیکٹرز کو جرات مندانہ فیصلے کرنا ہوں گے۔ سیریز کے دوران برمنگھم پہنچنے پر ٹیم کو درپیش مشکلات پر تبصرہ کرتے ہوئے ہیسن نے کہا کہ ابتدائی طور پر حالات مشکل تھے اور پہلے دن ٹاس ہارنے کے بعد ابتدائی سیشن میں کچھ کمزور شاٹس کی وجہ سے ڈریسنگ روم میں دباؤ پیدا ہو گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے ٹیم کے کھلاڑیوں کی تعریف کی کہ انہوں نے مشکلات کے باوجود شاندار حوصلہ دکھایا اور میچ کے آخری دنوں میں زبردست کم بیک کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیم کی کارروائی اگرچہ کامل نہیں تھی لیکن اس میں بہت سی مثبت چیزیں دیکھنے کو ملیں جن پر آگے چل کر عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا اگلا ٹیسٹ اسائنمنٹ رواں سال نومبر میں سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز ہے، اور ہیسن کے اس بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ وہ طویل مدتی بنیادوں پر پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کو بہتر بنانے کا عزم رکھتے ہیں۔