LIVE
Loading Breaking News...

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی روکنے کا مطالبہ، انٹروپک اور اوپن اے آئی متفق

News Image
انٹروپک کے سربراہ ڈاریو امودی نے سپر انٹیلیجنٹ سسٹمز کے خطرات کے پیش نظر مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنے پر زور دیا ہے۔ اس مطالبے کی اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمن اور ایکس اے آئی کے مالک ایلن مسک نے بھی تائید کی ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں جاری تیز رفتار دوڑ کے دوران، معروف اے آئی کمپنی انٹروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاریو امودی نے ٹیکنالوجی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طاقتور سسٹمز کی تیاری کی رفتار کو کچھ سست کر دیں۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 'سپر انٹیلیجنٹ' کمپیوٹر سسٹمز کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کچھ روز قبل ہی اے آئی کے ایک محقق جیکب کوکسن، جو پہلے اوپن اے آئی اور پھر انٹروپک کے ساتھ وابستہ رہے تھے، نے انڈسٹری چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے دونوں کمپنیوں پر انسانی زندگیوں کے ساتھ جوا کھیلنے کا سنگین الزام عائد کیا تھا۔ ڈاریو امودی نے اپنی ذاتی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں لکھا کہ ہمیں اے آئی ماڈلز کی صلاحیتوں میں بہتری لانے کی رفتار کو کم کرنا ہوگا۔ امودی نے کہا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی کی عدم موجودگی انسانیت کو اس کے فوائد سے محروم کر سکتی ہے یا اسے آمرانہ طاقتوں کے ہاتھ میں دے سکتی ہے، تاہم اسے ضرورت سے زیادہ تیزی سے بنانا بھی انتہائی لاپرواہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک درمیانی راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن گزشتہ چند مہینے کے دوران یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید احتیاط کی ضرورت ہے۔ امودی کے اس بیان پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اوپن اے آئی کے سربراہ سام آلٹمن اور ایکس اے آئی کے مالک ایلن مسک نے بھی اس مؤقف کی تائید کی ہے۔ ایلن مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ڈاریو بالکل درست کہہ رہے ہیں، جبکہ سام آلٹمن کا کہنا تھا کہ وہ بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ہمیں سرحد پر رفتار کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے قبل انٹروپک کے ملازمین اور دیگر ماہرین نے بھی امریکی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اے آئی کی ترقی کو جان بوجھ کر ایک معینہ رفتار میں رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔ امودی نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ واقعات جن میں اے آئی سسٹمز نے خود کو محدود ماحول سے نکال کر انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی، انہیں معمولی واقعہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی رفتار رہی تو آنے والے مہینوں میں اس طرح کے سسٹمز پورے انٹرنیٹ پر قابو پانے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔ انٹروپک کے سی ای او نے اعلان کیا ہے کہ ان کی کمپنی حفاظتی اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے تیسرے فریق کے جائزہ کاروں کو مکمل رسائی فراہم کرے گی اور انہوں نے تمام دیگر کمپنیوں سے بھی اسی روش پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔ سام آلٹمن نے بھی بیرونی نگرانی کے نظام کے ساتھ کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیک انڈسٹری اب اے آئی سیفٹی کے معاملے پر سنجیدہ مکالمے کی طرف بڑھ رہی ہے۔