LIVE
Loading Breaking News...

ڈیفنس لاجسٹکس ایجنسی میں ڈیجیٹل ملازمین اور مصنوعی ذہانت کا آغاز

News Image
امریکی ڈیفنس لاجسٹکس ایجنسی مصنوعی ذہانت پر مبنی خود مختار بوٹس یا ڈیجیٹل ملازمین کی آزمائش کر رہی ہے۔ چیف انفارمیشن آفیسر ایڈاریل رابرٹس کے مطابق یہ اقدام دفاعی لاجسٹکس کے شعبے میں ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا۔
واشنگٹن ڈیفنس لاجسٹکس ایجنسی (DLA) نے اپنی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور روزمرہ کے امور میں تیزی لانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خود مختار بوٹس کی آزمائش شروع کر دی ہے۔ ایجنسی کے حکام کی جانب سے ان خود مختار بوٹس کو 'ڈیجیٹل ملازمین' کا نام دیا گیا ہے، جو روایتی سافٹ ویئر سسٹمز سے ہٹ کر خود مختار طور پر فیصلے کرنے اور پیچیدہ کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ڈیفنس لاجسٹکس ایجنسی کے چیف انفارمیشن آفیسر (CIO) ایڈاریل رابرٹس نے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اقدام تمام متعلقہ فریقین کے لیے ایک بالکل نیا اور غیر دریافت شدہ محاذ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں دفاعی اداروں کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا تاکہ سپلائی چین اور انتظامی امور میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا بروقت سد باب کیا جا سکے۔ پائلٹ پروجیکٹ کے تحت ان ڈیجیٹل ملازمین کو ابتدائی طور پر مخصوص اور محدود ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں تاکہ ان کے کام کرنے کے انداز، سکیورٹی پروٹوکولز اور درستگی کا بغور جائزہ لیا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوتا ہے تو آنے والے وقتوں میں دنیا بھر کے دفاعی اور سرکاری ادارے اپنے دفتری امور اور کاغذی کارروائی کو نمٹانے کے لیے اسی نوعیت کے مصنوعی ذہانت کے ٹولز پر انحصار کریں گے۔