LIVE
Loading Breaking News...

اینتھروپک کی جانب سے اے آئی کے خلاف احتجاج کرنے والوں کی نگرانی کا انکشاف

News Image
معروف مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنی اینتھروپک کے سیکیورٹی حکام کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ اے آئی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ مانیٹرنگ اور سرویلنس مستقبل کے مبینہ جرائم کی روک تھام کے لیے کی جارہی ہے۔
حالیہ تفتیشی رپورٹس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے معروف ادارے 'اینتھروپک' کے سیکیورٹی عہدیدار ایسے افراد اور سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کر رہے ہیں جو اے آئی ٹیکنالوجی کے خلاف احتجاج یا تنقید میں مصروف ہیں۔ یہ پیشرفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں اب اپنے پلیٹ فارمز کے خلاف اٹھنے والی آوازوں سے نمٹنے کے لیے کس حد تک سیکیورٹی اقدامات کا سہارا لے رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی نگرانی شہریوں کی پرائیویسی اور آزادی اظہارِ رائے کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ نگرانی صرف عام تنقید تک محدود نہیں ہے بلکہ سیکیورٹی ادارے اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ مستقبل میں کون سے افراد کمپنیوں کے لیے سیکیورٹی خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس طرزِ عمل کو ناقدین نے 'پری کرائم' یا مستقبل کے مبینہ جرائم کی روک تھام کا نام دیا ہے، جہاں کسی باضابطہ جرم کے ارتکاب سے پہلے ہی افراد کو مانیٹر کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات پر بھی بحث چھیڑتی ہے کہ بڑی ٹیک کمپنیاں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کس طرح انٹیلی جنس اور نگرانی کے طریق کار استعمال کر رہی ہیں۔ اینتھروپک، جو کہ مقبول اے آئی ماڈل 'کلود' (Claude) کی تخلیق کار ہے، دنیا بھر میں اے آئی کی صنعت میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ تاہم، اس قسم کی سرویلنس رپورٹس سامنے آنے کے بعد کمپنی کو شفافیت اور اخلاقیات کے حوالے سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔ سول سوسائٹی اور ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹیک انڈسٹری کو عوامی نگرانی کے ایسے طریقوں سے گریز کرنا چاہیے جو شہریوں کے بنیادی حقوق کی پامالی کا باعث بنیں۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے مزید کھل کر سامنے آنے کی توقع ہے، کیونکہ قانون ساز اور پالیسی ساز ادارے بھی بڑی ٹیک کمپنیوں کی جانب سے ڈیٹا اکٹھا کرنے اور نگرانی کے طریقوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ اس بحث کو مزید ہوا دیتا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ ساتھ اس کے اخلاقی اور سماجی اثرات کو کیسے کنٹرول کیا جائے تاکہ عام آدمی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔