Technology
ٹرمپ انتظامیہ کا اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے سرکاری اراضی استعمال کرنے کا منصوبہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے سرکاری اراضی کے استعمال کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینا اور تکنیکی برتری کو برقرار رکھنا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے فروغ اور توسیعی منصوبوں کے تحت ایک انتہائی اہم اور جارحانہ قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ مصنوعی ذہانت کے نئے اور جدید ترین ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے وسیع پیمانے پر امریکی سرکاری اراضی کو استعمال میں لایا جائے۔ یہ اقدام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ واشنگٹن ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی قیادت کو برقرار رکھنے کے لیے کس حد تک سنجیدہ ہے۔
رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس پورے عمل کی نگرانی کے لیے امریکی محکمہ داخلہ اور دیگر متعلقہ وفاقی ادارے باہم مل کر لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کو چلانے کے لیے انتہائی زیادہ مقدار میں بجلی اور بڑے رقبے کی ضرورت ہوتی ہے، جو نجی شعبے کے لیے بعض اوقات ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس مشکل کو آسان بنانے کے لیے حکومت اب اپنے کنٹرول میں موجود اراضی کو ٹیک کمپنیوں کے تعاون سے اس مقصد کے لیے مختص کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ ترقیاتی کاموں میں کوئی رکاوٹ حائل نہ ہو سکے۔
اس فیصلے کے ناقدین اور ماحولیاتی ماہرین کی طرف سے کچھ تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے، جن کا کہنا ہے کہ سرکاری اراضی پر اس نوعیت کے بڑے صنعتی اور تکنیکی منصوبوں سے مقامی ماحول اور قدرتی وسائل پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم، انتظامیہ کا موقف ہے کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں پیچھے رہ جانا معاشی اور دفاعی دونوں محاذوں پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اس لیے یہ اقدامات ملکی مفاد میں انتہائی ضروری ہیں۔
آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ کے حوالے سے مزید قانونی اور انتظامی تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں حکومت کے اس اقدام کا خیرمقدم کریں گی کیونکہ اس سے انہیں اپنے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے لیے سستی اور باآسانی زمین دستیاب ہو سکے گی، جو آنے والے وقت میں مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کو مزید تیز کر دے گی۔