Business
پاکستان اور یورپی یونین جی ایس پی پلس تجارتی مراعات
یورپی یونین کی جانب سے تجارتی شرائط اور انسانی حقوق کے تقاضے مزید سخت کیے جانے کے بعد پاکستان کو جی ایس پی پلس مراعات کے تسلسل کیلیے نئی درخواست دینا ہوگی۔ پچھلی دہائی کے دوران اس اسکیم کے تحت یورپی منڈیوں کو پاکستانی برآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس تجارتی اسکیم کے ضوابط میں وسعت اور سختی لائے جانے کے بعد پاکستان کو اپنی برآمدی مراعات کو برقرار رکھنے کیلیے اب نئے سرے سے باقاعدہ درخواست دینا ہوگی۔ تجارتی اور سفارتی ذرائع کے مطابق یورپی یونین نے آئندہ دورانیے کیلیے کچھ ایسے نئے تقاضے متعارف کروائے ہیں جن میں انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور گڈ گورننس کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان نئی تبدیلیوں کے تناظر میں پاکستانی حکام کے سامنے ایک چیلنجنگ صورتحال پیدا ہو گئی ہے جسے حل کرنے کیلیے وزارتِ تجارت اور دیگر متعلقہ محکمے سرگرم ہو چکے ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی بدولت یورپی ممالک کو پاکستانی برآمدات میں تقریبا ایک سو آٹھ فیصد تک کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے ملکی معیشت کو خاصہ سہارا ملا۔ اگرچہ اس تجارتی اسکیم نے پاکستان کے مینوفیکچرنگ اور ٹیکسٹائل سیکٹر کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، تاہم اب یورپی یونین کے حالیہ انتباہات اور سخت شرائط کے بعد اس خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اگر مطلوبہ بین الاقوامی کنونشنز پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنایا گیا تو پاکستان ان اہم ترجیحی تجارتی فوائد سے محروم ہو سکتا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے پر فوری اور جامع حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ یورپی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنایا جا سکے اور برآمدات کے گراف کو نیچے گرنے سے بچایا جا سکے۔