Pakistan
اسلام آباد ہائی کورٹ کا پی ٹی آئی مارچ اور کے پی حکام سے متعلق اہم حکم
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج اور مارچ کے حوالے سے خیبر پختونخوا کے اعلیٰ حکام سے عدالتی احکامات کی تعمیل کے لیے حلف نامے طلب کر لیے ہیں۔ دوسری جانب اٹارنی جنرل آفس اور حکومتی شخصیات نے بھی احتجاجی مظاہروں پر سخت مؤقف اپنایا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاجی مارچ اور جلس جلوسوں کے تناظر میں خیبر پختونخوا کے سرکاری حکام سے باضابطہ طور پر حلف نامے طلب کر لیے ہیں۔ عدالت عالیہ کا یہ اقدام دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال اور سیاسی دباؤ کے پیش نظر سامنے آیا ہے، جہاں انتظامیہ کو ماضی کے احتجاجی مظاہروں کے دوران شدید سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ عدالت نے اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے کہ صوبائی مشینری کا بے جا استعمال نہ ہو اور قانون کی بالادستی برقرار رکھی جائے۔
دوسری جانب، وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی خدشات اور سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے قانونی اور انتظامی حلقوں میں ہلچل جاری ہے۔ اٹارنی جنرل آفس کے حکام نے پی ٹی آئی کے طویل مارچ کے خلاف دائر کی گئی مختلف درخواستوں کی حمایت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کی نفری احتجاجی مظاہرین کے مقابلے میں کافی کم ہے، جس کی وجہ سے شہر کے اہم مقامات کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی سیکیورٹی اور احتجاج کے دوران گاڑیوں اور کنٹینرز کو زبردستی روکے جانے اور تحویل میں لینے کے حکومتی اقدامات کی شدید مخالفت کی ہے، جس سے کاروباری اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
ان تمام پیش رفت کے درمیان، پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے بھی سیاسی دباؤ میں اضافے کے لیے حکمت عملی تبدیل کر دی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر اور دیگر اکابرین نے آئندہ ستائیس ستمبر کو ملک بھر میں ایک بڑے احتجاجی ’جسٹس مارچ‘ کی کال دی ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مارچ عدلیہ کی آزادی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور پارٹی رہنماؤں کی رہائی کے لیے ملک گیر سطح پر نکالا جائے گا، جس سے ملکی سیاسی درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔