LIVE
Loading Breaking News...

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، تاجروں اور ٹرانسپورٹرز کی تشویش

News Image
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس اضافے کے بعد اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیاء کی ترسیل کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار کیے جانے والے اضافے نے ملک بھر کی تاجر برادری اور گڈز ٹرانسپورٹرز کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی تنازعات کے اثرات کے باعث ملکی سطح پر بھی پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حال ہی میں حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے جس کے بعد عوام اور کاروباری طبقے پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کا براہ راست اثر عام آدمی کی زندگی پر پڑتا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر گڈز ٹرانسپورٹرز نے ملک بھر میں فریٹ چارجز یعنی کرایوں میں پانچ فیصد تک کا اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے بعد پرانے نرخوں پر کاروبار چلانا ناممکن ہو چکا تھا کیونکہ گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس اور دیگر اخراجات بھی بڑھ چکے ہیں۔ فریٹ بڑھنے سے ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک اشیاء کی ترسیل مہنگی ہو جائے گی جس کا اثر براہ راست سبزیوں، پھلوں اور دیگر روزمرہ استعمال کی اشیاء کی خوردہ قیمتوں پر پڑے گا اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔ دوسری جانب تاجر تنظیموں اور کاروباری رہنماؤں نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے لیے ہنگامی اقدامات کرے یا ٹیکسوں کا بوجھ کم کرے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ پہلے ہی ملکی معیشت سست روی کا شکار ہے اور توانائی کی بلند قیمتیں صنعتی پیداوار کو بھی مہنگا کر رہی ہیں جس سے ملکی برآمدات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔ کاروباری حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر قیمتوں میں اضافے کا یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو تجارتی سرگرمیاں مزیدمحدود ہو سکتی ہیں، جس سے بے روزگاری اور مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔