LIVE
Loading Breaking News...

برکس ممالک کا مشرق وسطیٰ کی جنگ پر تحمل کا مطالبہ اور عالمی تجارت کی بحالی پر زور

News Image
برکس رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں فریقین سے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے غزہ کے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کرتے ہوئے عالمی تجارت کی بلا تعطل بحالی پر بھی زور دیا ہے۔
برکس (BRICS) ممالک کے رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ خطے میں مزید خون خرابے کو روکا جا سکے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق برکس کے اس مشترکہ بیان کی توثیق ایران اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر رکن ممالک نے بھی کی ہے، جس میں تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں غزہ کے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی سختی سے مخالفت کی گئی ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی میں حائل رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔ برکس رہنماؤں کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ اور یوکرین سمیت دیگر خطوں میں جاری جنگوں سے عالمی امن اور سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں، اس لیے تنازعات کی روک تھام کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جانی چاہئیں۔ اجلاس کے دوران اس امر پر بھی خصوصی روشنی ڈالی گئی کہ موجودہ جنگی صورتحال کی وجہ سے عالمی معیشت اور سپلائی چین بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ رکن ممالک نے مطالبہ کیا کہ بحری راستوں اور تجارتی گزرگاہوں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ عالمی تجارت کا تسلسل بلا تعطل برقرار رہ سکے اور دنیا بھر کے ممالک کو معاشی بحران سے بچایا جا سکے۔ برکس کا یہ مشترکہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پھیلنے کے خطرات پر قابو پانے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ مبصرین کے مطابق، برکس جیسے با اثر عالمی بلاک کی جانب سے تحمل اور تجارت کے تسلسل کا یہ مطالبہ عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔