World
سعودی عرب نے اہم تیل پائپ لائن بند کردی
سعودی عرب نے عراق سے ہونے والے مبینہ ڈرون حملوں کے بعد اپنی ایک اہم تیل کی پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ اس اقدام سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد اور سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب نے عراق سے مبینہ طور پر لانچ کیے جانے والے ڈرون حملوں کے بعد اپنی ایک انتہائی اہم تیل کی پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق اس اقدام سے سعودی عرب کی تیل کی برآمدات اور رسد وقتی طور پر محدود ہو گئی ہے، جبکہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال بھی کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
دوسری جانب یمنی حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں شپنگ کے راستوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ اور حملوں کے تناظر میں یہ واقعہ خطے میں توانائی کے بحران کے خدشات کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ بین الاقوامی منڈی میں اس بندش کے اثرات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، کیونکہ سعودی عرب تیل کی فراہمی میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ عراق کی سمت سے آنے والے ڈرون حملوں اور خطے میں جاری کشمکش نے خلیجی ممالک کی توانائی کی تنصیبات کی سکیورٹی کو ایک بار پھر کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ متعلقہ سکیورٹی ادارے اور اتحادی ممالک صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تیل کی سپلائی لائنز کو محفوظ بنایا جا سکے اور کسی بھی بڑے بحران کو روکا جا سکے۔