AI
اینتھروپک کے سی ای او کا مصنوعی ذہانت کی ترقی سست کرنے کا مطالبہ
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے خبردار کیا ہے کہ اے آئی کی ترقی کی موجودہ رفتار بے قابو ہو چکی ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا ہے کہ تکنیکی ترقی کو محفوظ بنانے کے لیے اس کی رفتار کو سست کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں جاری تیز رفتار ترقی پر دنیا بھر کے ماہرین اور صنعت کے قائدین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں معروف اے آئی فرم اینتھروپک کے چیف ایگزیکٹو ڈاریو امودی نے ایک اہم بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کی موجودہ دوڑ کو فوری طور پر سست کیا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی کی یہ رفتار اسی طرح بے لگام رہی تو انسانی معاشرے کے لیے اس کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ ڈاریو امودی کے مطابق، ترقی کی یہ تیز رفتار نہ صرف سیکیورٹی کے اصولوں کو نظر انداز کر رہی ہے بلکہ اس سے معاشرتی استحکام کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں میں حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹیک صنعت کے اندر بھی سخت بحث چھڑی ہوئی ہے۔ دوسری جانب، صنعت کے اندرونی ذرائع اور محققین کی طرف سے بھی ایسے خدشات کا اظہار کیا جا रहा ہے کہ کئی کمپنیاں بغیر کسی مناسب ضابطے یا حفاظتی حصار کے انتہائی طاقتور ماڈلز تیار کر رہی ہیں۔ حال ہی میں چند اہم محققین نے بھی اے آئی کے بے قابو ہونے کے خدشات کے پیش نظر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دیا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ صورتحال کتنی نازک ہوتی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اینتھروپک اور دیگر بڑی کمپنیوں کے سربراہان نے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور نہ کیا تو مستقبل میں ریگولیٹرز کو سخت اقدامات اٹھانے پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے ایک متوازن لائحہ عمل کی ضرورت ہے تاکہ جدت اور انسانی سلامتی کے درمیان درست توازن قائم رکھا جا سکے۔