World
چلی نرسنگ ہوم آتشزدگی حادثہ سولہ بزرگ جاں بحق
چلی کے ایک نرسنگ ہوم میں لگنے والی شدید آگ کے نتیجے میں 16 بزرگ افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ ادارہ 2019ء سے ضابطہ کار کی خلاف ورزیوں پر جرمانوں اور قانونی کارروائیوں کا سامنا کر رہا تھا۔
لاطینی امریکی ملک چلی کے ایک نرسنگ ہوم میں پیش آنے والے المناک واقعے نے پوری دنیا کو سوگوار کر دیا۔ نرسنگ ہوم میں لگنے والی اچانک اور شدید آگ کے نتیجے میں کم از کم 16 بزرگ رہائشی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس دلخراش واقعے کے بعد مقامی حکام اور ریسکیو اداروں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کیں، تاہم آگ اتنی شدید تھی کہ متعدد افراد کو بچایا نہ جا سکا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد عمر رسیدہ تھے جو خود سے حرکت کرنے یا فوری طور پر باہر نکلنے کے قابل نہیں تھے۔ فائر فائٹرز نے کئی گھنٹوں کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا اور لاشوں کو اسپتال منتقل کیا۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ فیسلٹی یا ادارہ پہلے ہی سے مختلف قسم کے قانونی اور انتظامی مسائل کا شکار تھا۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق یہ نرسنگ ہوم 2019ء سے ضابطہ کار کی سنگین خلاف ورزیوں پر حکام کی جانب سے جرمانے اور نفاذی کارروائیوں کا سامنا کر رہا تھا۔ متعلقہ محکموں نے پہلے بھی ادارے کی ناقص کارکردگی اور حفاظتی انتظامات کی کمی پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، لیکن بروقت اور سخت اقدامات نہ کیے جانے کا خمیازہ اس بڑے جانی نقصان کی صورت میں نکلا۔ عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے اور قانون شکن اداروں کے خلاف سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
اس المناک حادثے کے بعد چلی کے نگہداشت مراکز اور اولڈ ہومز کے حفاظتی معیارات پر شدید سوالیہ نشان لگ گئے ہیں۔ ملک بھر میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا کمزور اور معمر افراد کی دیکھ بھال کرنے والے ادارے حفاظتی پروٹوکولز پر سنجیدگی سے عمل درآمد کر رہے ہیں یا نہیں۔ حکومت اور مقامی انتظامیہ پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ فوری طور پر تمام نرسنگ ہومز کا سکیورٹی اور فائر سیفٹی آڈٹ کروائیں تاکہ مستقبل میں ایسے اندمناک سانحات کو رونما ہونے سے روکا جا سکے۔ واقعے کے بعد لواحقین اور متاثرہ خاندانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے جو اپنے پیاروں کی المناک موت پر انصاف کے طالب ہیں۔