World
اسرائیل لبنان کشیدگی، جنوبی لبنان پر حملے اور مذاکرات ملتوی
اسرائیل نے جنوبی لبنان پر فضائی اور زمینی حملے کیے ہیں جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کا اگلا دور مؤخر ہو گیا ہے۔ یہ مذاکرات امریکی ثالثی میں طے پائے تھے جن کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا تھا۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر شدید بمباری کی ہے، جس سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ان حملوں کے بعد لبنان اور اسرائیل کے مابین امریکا کی ثالثی میں طے پانے والے اہم مذاکرات کا اگلا دور غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات دونوں فریقین کے درمیان جاری تنازع کے پرامن حل اور سرحد پر کشیدگی کو کم کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل تھے۔ حالیہ فوجی کارروائیوں نے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور امن کی امیدیں ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہیں۔
امریکی ثالثوں نے فریقین کے درمیان رابطہ بحال رکھنے کی کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ مذاکرات کو مکمل طور پر ناکام ہونے سے بچایا جا سکے۔ تاہم زمینی حقائق انتہائی کشیدہ ہیں کیونکہ اسرائیلی بمباری سے جنوبی لبنان کے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا ہے اور مقامی آبادی کو محفوظ مقامات کی طرف ہجرت کرنا پڑی ہے۔ بین الاقوامی برادری نے خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک فوجی کارروائیوں کا سلسلہ نہیں روکا جاتا، سفارتی سطح پر کسی بھی پیش رفت کا امکان انتہائی کم ہے۔
لبنانی حکومت نے اسرائیل کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے اور جنوبی لبنان میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی کارروائیاں سلامتی کے دفاع کے لیے ضروری ہیں۔ اس صورتحال میں خطے میں ایک بڑی جنگ کا خطرہ بدستور منڈلا رہا ہے جبکہ عام شہری اس کشیدگی کی سب سے بڑی قیمت چکانے پر مجبور ہیں۔