Politics
امریکی عدالت کا ڈیزاسٹر ایجنسی کے عملے میں کمی کا منصوبہ معطل
ایک امریکی عدالت نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا وہ منصوبہ عارضی طور پر روک دیا ہے جس کے تحت ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے عملے میں کمی کی जानी تھی۔ صدر ٹرمپ نے اس سے قبل اس ایجنسی کو ختم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔
امریکہ میں ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس متنازع فیصلے کو روک دیا ہے جس کے تحت ملک کے اہم ڈیزاسٹر مینجمنٹ ادارے کی افرادی قوت میں بڑے پیمانے پر کمی کی جانی تھی۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اخراجات میں کٹائی اور انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کرنا تھا، تاہم عدالتی حکم کے بعد اس منصوبے پر فی الحال عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے کہ ہنگامی حالات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر نہ ہو۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں اس خواہش کا اظہار کر چکے ہیں کہ وہ اس طرح کے وفاقی اداروں کو یا تو ختم کرنا چاہتے ہیں یا ان کے اختیارات اور عملے میں نمایاں کمی لانا چاہتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اقدامات سے ملک کی قدرتی آفات سے لڑنے کی صلاحیت کمزور ہو سکتی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے طوفانوں اور سیلاب کے خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عدالت کی جانب سے اس حکم امتناعی کے بعد اب قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ فریقین کے درمیان طویل عدالتی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے، جس میں ایجنسی کے آئینی اور قانونی کردار پر مزید بحث کی جائے گی۔ انتظامیہ کی طرف سے اس فیصلے پر فی الحال کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کے احکامات کا جائزہ لے رہے ہیں اور آئندہ کی حکمت عملی جلد طے کی جائے گی۔