World
بحرین کا ایران کے آبِ ہرمز اجلاس میں شرکت سے صاف انکار
بحرین نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی طرف سے تجویز کردہ آبِ ہرمز کے علاقائی اجلاس میں حصہ نہیں لے گا۔ دوسری جانب ایران نے اس اجلاس کو پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا نام دیا ہے۔
منامہ (نکسورا نیوز اردو) بحرین کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے تجویز کردہ آبِ ہرمز کے علاقائی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔ خلیجی خطے کی موجودہ سفارتی صورتحال اور سکیورٹی خدپیش کے تناظر میں بحرین کا یہ فیصلہ انتہائی اہم اور قابلِ غور سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق خطے کے ممالک کے مابین باہمی اعتماد کی بحالی اور سکیورٹی کے معاملات پر تاحمر فکری اختلافات پائے جاتے ہیں جو اس قسم کے فیصلوں کی بنیادی وجہ بنتے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے اس مجوزہ اجلاس کے حوالے سے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے نشریاتی ادارے الجزیرہ کو بتایا ہے کہ پیر کے روز ہونے والا یہ اجلاس ہمسایہ ممالک کی طرف ایران کے 'نیک ارادوں' کا واضح ثبوت ہے۔ تہران کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کے مکالمے اور ملاقاتیں خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور باہمی تعاون کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، جس سے بالآخر تمام متعلقہ فریقین کو فائدہ پہنچے گا۔ تاہم، بحرین اور کئی دیگر خلیجی ممالک کی طرف سے اس دعوت پر ردعمل کا مختلف انداز میں آنا اس بات کا غماز ہے کہ علاقائی سیاست میں ابھی تک متعدد پیچیدگیاں اور تحفظات موجود ہیں۔ خلیجی خطے میں امن و امان اور تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر سفارتی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔ مبصرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں اس نوعیت کے سفارتی اقدامات اور ردعمل خطے کے مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے، جبکہ تمام ممالک اپنے اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحت فیصلے کر رہے ہیں۔