LIVE
Loading Breaking News...

یمن میں حوثی پیش قدمی اور ایران امریکہ کشمکش کا تجزیہ

News Image
یمن میں حوثی جنگجوؤں کی جانب سے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں پر قبضے اور آبنائے باب المندب پر گرفت مضبوط کرنے سے خطے میں ایران کی پوزیشن مزید مستحکم ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے عالمی طاقتوں اور بالخصوص امریکہ کے لیے سکیورٹی خدشات بڑھا دیے ہیں۔
یمن میں حوثی تحریک کی حالیہ پیش قدمی اور بحیرہ احمر کے اہم ساحلی علاقوں پر قبضے نے خطے میں طاقت توازن کو ایک بار پھر ایران کے حق میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ حوثی جنگجوؤں کی جانب سے دنیا کے مصروف ترین تجارتی اور عسکری بحری گزرگاہوں میں سے ایک، آبنائے باب المندب پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کے بعد بین الاقوامی برادری میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف یمنی تنازع کی نوعیت کو بدل رہی ہے بلکہ اس کا براہ راست تعلق امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشمکش سے بھی ہے۔ ایران کے قریبی اتحادی مانے جانے والے حوثیوں کی اس کامیابی سے تہران کو واشنگٹن کے خلاف مذاکرات اور عسکری محاذ پر اضافی تزویراتی برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کی سکیورٹی اور خطے میں امریکی بحری بیڑوں کی موجودگی کے باوجود حوثیوں کا یہ کنٹرول اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں روایتی امریکی برتری کو چیلنج کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال میں امریکہ کے لیے اپنے اتحادیوں کے مفادات کا تحفظ اور سمندری تجارت کے راستوں کو کھلا رکھنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے، جبکہ دوسری طرف ایران اس خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے میں کامیاب ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں امریکہ اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنوں پر بھی مرتب ہوں گے۔ تیل کی ترسیل کے اہم ترین راستے پر اس طرح کا کنٹرول تہران کو واشنگٹن پر دباؤ ڈالنے کا ایک مؤثر سفارتی اور عسکری ذریعہ فراہم کرتا ہے، جو طویل المدتی تنازعات کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔