LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد کے نئے آئی جی پی کی تقرری اور پولیس میں اہم تقرر و تبادلے

News Image
وفاقی حکومت نے اسلام آباد پولیس میں اہم انتظامی ردوبدل کرتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد سہیل چوہدری کو نیا انسپکٹر جنرل پولیس تعینات کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ علی ناصر رضوی کو نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی کا اضافی چارج سونپ دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ملک کے دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے اور انتظامی امور کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے اعلیٰ ترین عہدے میں اہم تبدیلی کرتے ہوئے گریڈ 21 کے افسر کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد سہیل چوہدری کو نیا انسپکٹر جنرل پولیس (آئی جی پی) تعینات کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اسلام آباد پولیس کی قیادت میں ایک نئی تبدیلی رونما ہوئی ہے جو دارالحکومت کی سٹریٹیجک اہمیت کے پیش نظر انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ یاد رہے کہ سبکدوش ہونے والے پولیس سربراہ علی ناصر رضوی اپریل 2024 سے اسلام آباد کے پولیس چیف کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے اور ان کی کارکردگی کے دوران شہر میں کئی اہم چیلنجز کا سامنا کیا گیا۔ نئے تقرر و تبادلوں کے اس سلسلے میں علی ناصر رضوی کو اب ایک نئی اور اہم ذمہ داری سونپی گئی ہے، جہاں انہیں نیشنل سائبر کرائم انویستی گیشن ایجنسی (NCCIA) کا چارج دیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں سائبر کرائمز اور ڈیجیٹل سیکیورٹی کے خطرات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، اور این سی سی آئی اے جیسے ادارے کو فعال بنانے کے لیے تجربہ کار افسران کی ضرورت ہے۔ حکومت کو امید ہے کہ علی ناصر رضوی کی زیر قیادت یہ ادارہ سائبر کرائمز سے نبرد آزما ہونے میں مزید موثر کردار ادا کرے گا اور ڈیجیٹل فراڈز کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ انتظامی ردوبدل کے اس عمل کے دوران گریڈ 21 کے ایک اور اہم افسر خرم علی کو ڈائریکٹر جنرل نیشنل پولیس بیورو (NPB) تعینات کر دیا گیا ہے۔ نیشنل پولیس بیورو پولیس فورسز کی تربیت، ریسرچ اور پالیسی سازی میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اور خرم علی کی تقرری سے اس ادارے کی کارکردگی میں بھی مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ان احکامات کا مقصد ملک کے اہم ترین قانون نافذ کرنے والے اداروں میں پروفیشنلزم کو فروغ دینا اور بروقت فیصلے کرنا ہے۔ اسلام آباد پولیس، این سی سی آئی اے اور نیشنل پولیس بیورو میں ہونے والی ان تبدیلیوں کو دارالحکومت اور ملک بھر کی انتظامی سطح پر ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ سیاسی و انتظامی حلقوں کا ماننا ہے کہ نئے افسران کی تعیناتی سے نہ صرف پولیس فورس کا مورال بلند ہوگا بلکہ جرائم کے خلاف جنگ میں بھی نئی توانائیاں شامل ہوں گی۔ عوام کی نظریں اب نئی قیادت پر مرکوز ہیں کہ وہ کس طرح شہر میں امن عامہ کو برقرار رکھنے اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرتے ہیں۔