LIVE
Loading Breaking News...

انتھروپک رپورٹ اور امریکی انٹیلی جنس کا چینی اے آئی کمپنیوں پر الزام

News Image
امریکہ کے سکیورٹی اداروں نے چھ چینی اے آئی کمپنیوں پر امریکی فرمز سے ڈیٹا چرانے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ یہ انکشاف انتھروپک کی حال ہی میں جاری کردہ تھریٹ انٹیلی جنس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے۔
امریکہ کی سکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے چینی مصنوعی ذہانت کی فرموں کے خلاف سخت اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، جس کی بنیادی وجہ انتھروپک کی حالیہ تھریٹ انٹیلی جنس رپورٹ ہے۔ امریکی اداروں سی آئی ایس اے، ایف بی آئی اور این ایس اے نے ایک مشترکہ ایڈوائزری جاری کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ چین کی چھ بڑی اے آئی کمپنیاں امریکی ٹیکنالوجی فرموں کے ماڈلز سے صنعتی پیمانے پر معلومات کشید کرنے میں ملوث ہیں۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب انتھروپک نامی معروف مصنوعی ذہانت کی کمپنی نے اپنی تفصیلی رپورٹ دنیا کے سامنے رکھی۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کس طرح غیر ملکی عناصر اور بالخصوص چینی ادارے امریکی جدید ترین اے آئی ماڈلز کے راز چرانے اور ان کی نقل تیار کرنے کے لیے ڈسٹلیشن تکنیک کا بڑے پیمانے پر استعمال کر رہے ہیں۔ اس تکنیک کی مدد سے کمزور ماڈلز کو طاقتور ماڈلز کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے تاکہ کم وقت اور کم لاگت میں جدید ترین ٹیکنالوجی حاصل کی جا سکے۔ ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تکنیکی سرد جنگ کو مزید ہوا دے رہا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں برتری حاصل کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رسہ کشی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ امریکی اداروں کی جانب سے اس بابت باقاعدہ انتباہ جاری کیے جانے کا مقصد ملکی ٹیکنالوجی فرموں کو سائبر سکیورٹی کے حوالے سے مزید محتاط بنانا اور غیر قانونی ڈیٹا مائننگ کے خلاف دفاعی اقدامات کو مضبوط کرنا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس معاملے کے عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی تجارت اور مصنوعی ذہانت کے ضوابط پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ امریکی حکومت اس نوعیت کے سائبر خطرات اور صنعتی جاسوسی کے سدباب کے لیے مزید سخت پالیسیاں مرتب کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ امریکی فکری ملکیت اور جدید ترین سائنسی تحقیقات کو محفوظ بنایا جا سکے۔