World
ترکیہ کی خارجہ پالیسی: مغرب اور یوریشیا کے درمیان متوازن حکمت عملی
ترکیہ کی موجودہ خارجہ پالیسی کا مقصد مغربی روایتی دباؤ اور یوریشیائی نظریاتی توقعات سے بالاتر ہو کر صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔ انقرہ نہ تو مغرب کی اندھی تقلید کرتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے بلاگ کا مکمل تابع دار ہے۔
ترکیہ کی معاصر خارجہ پالیسی کا ایک معروضی جائزہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مغربی روایتی مایوسی اور یوریشیائی نظریاتی خواہشات کو ایک طرف رکھ کر حقائق کا ادراک کیا جائے۔ انقرہ نہ تو کسی کمزور ناٹو اتحادی کے طور پر کام کرتا ہے اور نہ ہی وہ کسی مخصوص بلاگ کا مکمل حامی ہے، بلکہ اس کا بنیادی ہدف اپنے قومی مفادات کا بھرپور تحفظ اور خطے میں خودمختار حیثیت کو برقرار رکھنا ہے۔ ترکیہ کی قیادت نے ہمیشہ سے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ وہ بیک وقت مغربی دنیا بالخصوص امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو بھی قائم رکھے اور ساتھ ہی یوریشیائی ممالک کے ساتھ اقتصادی و سیاسی تعاون کو فروغ دے۔
اس دوطرفہ حکمت عملی کے تحت ترکیہ نے بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک ایسی منفرد پوزیشن بنا لی ہے جہاں اسے نظر انداز کرنا کسی بھی بڑی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہا۔ اگرچہ انقرہ کو مغربی دفاعی اتحاد ناٹو کا ایک اہم رکن مانا جاتا ہے، تاہم اس کے روس اور دیگر مشرقی ممالک کے ساتھ بڑھتے ہوئے تجارتی اور عسکری روابط اکثر واشنگتن اور برسلز میں تشویش کی لہر دوڑا دیتے ہیں۔ دوسری طرف، ماسکو اور بیجنگ بھی اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ترکیہ اپنے خطے میں ایک آزاد کھلاڑی کی حیثیت رکھتا ہے جو اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر خودمختار ہے۔
ترکیہ کی اس متوازن سفارت کاری کی بڑی وجہ اس کی جغرافیائی سیاسی اہمیت ہے، جو اسے یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر کھڑا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انقرہ عالمی سطح پر ثالث کا کردار ادا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، جیسا کہ ہم نے ماضی میں مختلف بین الاقوامی تنازعات کے دوران دیکھا ہے۔ ترکیہ کی خارجہ پالیسی کا یہ نکتہ بالکل واضح ہے کہ اس کی دوستی یا دشمنی کسی دائمی نظریے پر نہیں بلکہ خالصتاً وقت اور حالات کے تقاضوں اور قومی مفاد پر منحصر ہوتی ہے۔
مستقبل میں بھی ترکیہ کی یہ خارجہ پالیسی خطے کے حالات پر گہرے اثرات مرتب کرتی رہے گی۔ جب تک بین الاقوامی سیاست میں طاقت کا توازن بدلتا رہے گا، انقرہ اپنی اس لچکدار اور مفاد پر مبنی حکمت عملی کو جاری رکھے گا۔ مغرب اور یوریشیا کے درمیان یہ توازن نہ صرف ترکیہ کی معاشی اور سیاسی بقا کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ کوئی بھی ابھرتی ہوئی طاقت اب روایتی بلاک کی پابندیوں کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔