Technology
اینڈرائیڈ وی پی این لاک ڈاؤن اور سکیورٹی مسائل کی تازہ رپورٹ
نیکسورا نیوز اردو کی رپورٹ کے مطابق، اینڈرائیڈ کے چند فیچرز وی پی این کی حفاظتی دیواروں کو کمزور کر سکتے ہیں۔ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ این اے ٹی ٹی کیپ الائیو آف لوڈ کی وجہ سے ڈیٹا لیک ہونے کا خطرہ ہے۔
جدید ڈیجیٹل دور میں صارفین کی پرائیویسی اور سکیورٹی اولین ترجیح مانی جاتی ہے، لیکن हाल ہی میں کی جانے والی ایک تکنیکی تحقیق نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے پریشانی پیدا کر دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اینڈرائیڈ کے کچھ مخصوص فیچرز، جن میں 'ہمیشہ آن وی پی این' اور 'بغیر وی پی این کے کنکشن بلاک کریں' کی ترتیبات شامل ہیں، توقع کے برعکس مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو سکتے ہیں۔ اس کمزوری کی وجہ سے صارفین کا حساس ڈیٹا غیرمحفوظ راستوں سے باہر جا سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں موجود 'این اے ٹی ٹی کیپ الائیو آف لوڈ' (NAT-T keepalive offload) کا فیچر اس پورے سکیورٹی نظام کو بائی پاس کر دیتا ہے۔ جب یہ فیچر فعال ہوتا ہے تو کچھ نیٹ ورک سگنلز اور سسٹمز وی پی این ٹنل کی پابندیوں کو عبور کرتے ہوئے براہ راست انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں۔ اس سے بظاہر یہ تاثر ملتا ہے کہ وی پی این فعال ہے اور تمام ٹریفک محفوظ ہے، لیکن پس منظر میں کچھ ڈیٹا لیک ہونے کے خطرات برقرار رہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین نے گوگل اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ اس خامی کا فوری نوٹس لیں اور اینڈرائیڈ کے سکیورٹی پروٹوکولز میں بہتری لائیں۔ صارفین کے لیے یہ جاننا انتہائی ضروری ہے کہ وہ اپنے آلات پر وی پی این کی ترتیبات کو کس طرح مانیٹر کریں تاکہ کسی بھی غیر متوقع ڈیٹا لیک یا سکیورٹی سقم سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ حساس نوعیت کے امور انجام دیتے وقت نیٹ ورک کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔