LIVE
Loading Breaking News...

ایل نینو کی پیشگوئی اور حکومتی تیاریوں کا فقدان - نیکسورا نیوز

News Image
امریکہ کے موسمیاتی ادارے نے رواں سال تاریخی ایل نینو کی ستر فیصد پیشگوئی کی ہے، جس سے دنیا بھر میں حکومتی تیاریوں پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس موسمیاتی تبدیلی کے اثرات زراعت، معیشت اور انفراسٹرکچر پر شدید انداز میں مرتب ہو سکتے ہیں۔
حال ہی میں سامنے آنے والی موسمیاتی پیشگوئیوں کے مطابق دنیا بھر میں شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا خطرہ منڈلا رہا ہے، جس میں امریکی موسمیاتی ادارے نے رواں سال 'تاریخی' ایل نینو کے امکانات پچھتر فیصد تک ظاہر کیے ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر زرعی ماہرین، معیشت دانوں اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کیونکہ متعلقہ سرکاری ادارے اس ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کی موسمیاتی پیشگوئیوں کو نظر انداز کرنا طویل المعاد معاشی اور جانی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق دنیا کے مختلف حصوں میں آنے والے موسم سرما اور آئندہ برسوں کے دوران شدید برفباری، سیلاب اور خشک سالی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ برطانیہ کے علاقوں جیسے کاکرموتھ میں اولڈ کورٹ ہاؤس کے مقام پر بھی سیلاب کے خدشات ایک بار پھر تازہ ہو گئے ہیں، جہاں ماضی میں بھی اس قسم کے موسمیاتی مظاہر سے نقصانات ہو چکے ہیں۔ دریں اثنا، جرمن میڈیا اور دیگر عالمی تحقیقی ادارے مرجان کی چٹانوں کو بطور موسمیاتی آرکائیو استعمال کرتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ قدرتی مظاہر شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں یا نہیں۔ حکومتی سطح پر روایتی سستی اور حفاظتی اقدامات کا فقدان اس بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ اگرچہ سائنسی اداروں نے پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، تاہم انتظامی ڈھانچے اس طرح کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے موثر حکمت عملی بنانے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک بالخصوص اس قسم کے موسمیاتی جھٹکوں کے سب سے زیادہ زد میں آتے ہیں، جہاں فصلیں تباہ ہونے اور غذائی قلت کے خدشات سب سے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کی حکومتیں موسمیاتی پیشگوئیوں کو سنجیدگی سے لیں اور پیشگی تیاریوں کو یقینی بنائیں۔ بروقت اقدامات اور مضبوط انفراسٹرکچر ہی وہ واحد ذریعہ ہیں جن کی مدد سے ایل نینو جیسے طاقتور موسمیاتی مظاہر کے تباہ کن اثرات کو کم سے کم کیا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، عدم تیاری کا یہ عالم دنیا کو ایک بڑے انسانی اور اقتصادی بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔