LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائی کورٹ کا کے پی کے حکام سے حلف نامہ طلب

News Image
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے احتجاجی مارچ سے متعلق کیس میں خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور آئی جی سے ذاتی حیثیت میں حلف نامے طلب کر لیے ہیں۔ اٹارنی جنرل آفس اور دیگر متعلقہ حکام نے اس معاملے پر عدالت کو بریفنگ دی ہے جبکہ سیاسی جماعت کی جانب سے بھی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے احتجاجی مارچ کے معاملے کی سماعت کے دوران خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) سے تفصیلی حلف نامے طلب کر لیے ہیں۔ عدالت عالیہ نے یہ احکامات دارالحکومت میں سیکیورٹی اور سیاسی کشیدگی کے تناظر میں جاری کیے ہیں۔ عدالت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ صوبائی مشینری کا بے جا استعمال نہ ہو اور قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔ دوسری جانب، وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے اٹارنی جنرل آفس نے بھی عدالت میں مؤقف اپنایا ہے کہ پی ٹی آئی کے طویل مارچ کے دوران دارالحکومت کی پولیس تعداد کے لحاظ سے کافی کمزور پڑ سکتی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس تناظر میں گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی گاڑیوں اور کنٹینرز کو زبردستی قبضے میں لینے کی سخت مخالفت کی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ کے شعبے کو درپیش مشکلات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ادھر، پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے ملک بھر میں ستائیس ستمبر کو 'جسٹس مارچ' نکالنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ سیاسی محاذ پر بڑھتی ہوئی اس گرما گرمی کے بعد حکومتی اور عدالتی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیاریاں کر رہے ہیں۔