World
برکس اعلامیہ: ایران اور متحدہ عرب امارات کا مشرق وسطیٰ میں تحمل پر زور
برکس ممالک نے مشرق وسطیٰ اور یوکرین کے تنازعات کے دوران زیادہ سے زیادہ تحمل اور عالمی تجارت کی بلا تعطل روانی پر زور دیا ہے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات نے بھی اس مشترکہ اعلامیے کی مکمل حمایت کی ہے جس میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی مخالفت کی گئی ہے۔
برکس ممالک کے رہنماؤں نے حال ہی میں ایک اہم مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں مشرق وسطیٰ اور یوکرین کی جنگوں کے پیش نظر تمام فریقین سے زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ اس اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ علاقائی کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جائے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ اسی تناظر میں ایران اور متحدہ عرب امارات نے بھی اس مشترکہ برکس اعلامیے کی بھرپور حمایت کی ہے جو خطے میں امن اور استحکام کے قیام کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اعلامیے کے مطابق تمام ممالک کو عالمی قوانین کا احترام کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی امن کو برقرار رکھا جا سکے۔
اس اعلامیے میں غزه سے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی بھی شدید مخالفت کی گئی ہے اور جنگ سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کی فراہمی کو بلا تعطل جاری رکھنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ برکس رہنماؤں کا ماننا ہے کہ خطے میں دیرپا امن صرف مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ طاقت کے استعمال سے۔ اس کے علاوہ عالمی تجارت کی بلا تعطل اور ہموار روانی کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ دنیا بھر میں معاشی چیلنجز سے نمٹا جا سکے کیونکہ موجودہ جنگی صورتحال کی وجہ سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہو رہی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کی طرف سے اس اعلامیے کی حمایت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خطے کے تمام اہم ممالک اب تنازعات کے پرامن حل کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اور سلامتی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ برکس کا یہ مشترکہ موقف دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور خطے میں استحکام کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں اور تمام فریقین کو تحمل کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔