LIVE
Loading Breaking News...

برکس اجلاس میں شی جن پنگ کا استقبال اور پاک بھارت تعلقات پر اثرات

News Image
برکس سربراہی اجلاس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ کا پرتپاک استقبال کیا گیا ہے جو کہ بھارت اور چین کے تعلقات میں برف پگھلنے کی علامت ہے۔ اجلاس میں مشرق وسطیٰ کے تنازعات اور عالمی اثر و رسوخ کے حصول پر بھی خصوصی توجہ مرکوز رہی۔
برکس (BRICS) سربراہی اجلاس کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ کا انتہائی پرتپاک اور شاندار انداز میں ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا ہے۔ اس اہم سفارتی دورے کو بین الاقوامی میڈیا میں بھارت اور چین کے تعلقات کے تناظر میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ طویل عرصے سے دونوں ایشیائی جائنٹس کے درمیان سرحدی تنازعات کی وجہ سے کشیدگی چلی آ رہی تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات میں بہتری کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں جو خطے کے امن کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ اجلاس کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے مشرق وسطیٰ کے امور میں برکس ممالک کے فعال اور پرامن کردار ادا کرنے پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں ترقی پذیر ممالک کو مل کر درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا اور عالمی سطح پر اپنی معاشی و سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہوگا۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ برکس پلیٹ فارم پر چین اور بھارت دونوں ہی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے کوشاں ہیں، لیکن اس کے باوجود باہمی سفارت کاری کو فروغ دینا دونوں ممالک کی مجبوری اور ترجیح دونوں بن چکا ہے۔ اس دورے کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں اور دوطرفہ بات چیت پر پوری دنیا کی نگاہیں مرکوز تھیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق اس ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات میں برف پگھلنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں تجارت، سکیورٹی اور خطے کے دیگر اہم امور پر مزید مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔ برکس کا یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دنیا بھر میں جنگی صورتحال اور معاشی بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں، اور ایسے میں عالمی طاقتوں کا ایک پلیٹ فارم پر بیٹھنا ایک خوش آئند قدم ہے۔