Pakistan
وزیر اعلیٰ سندھ کا نئے صوبوں کے قیام پر ردعمل اور سیاسی بحث
وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے میں نئی انتظامی اکائیاں بنانے کے مطالبے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے فرسودہ سوچ قرار دیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے محسن نقوی کی تجویز کے بعد اس بحث کو مزید نہ بڑھانے پر زور دیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے میں نئے صوبوں کے قیام کے تمام مطالبات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں ایک فرسودہ اور غیرمفید عمل قرار دیا ہے۔ ان کے اس بیان نے ملک کے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتیں انتظامی اکائیوں اور گورننس کے نظام پر کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔ اس سے قبل نگراں یا وفاقی سطح پر بھی نظامِ حکومت اور گورننس کے حوالے سے تبصرے کیے گئے تھے جنہیں ماہرینِ سیاسیات اہم قرار دے رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیر اعلیٰ سندھ کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ انتظامی اکائیوں کی اس بحث کو اب مزید نہ بڑھایا جائے کیونکہ اس سے ملک یا صوبے میں غیر ضروری سیاسی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے صوبائی سطح پر اتحاد اور یکجہتی کی اشد ضرورت ہے نہ کہ تقسیم کی سیاست کی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک کو معاشی اور انتظامی سطح پر کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ وفاقی و صوبائی سطح پر گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اصلاحات کی تجاویز تو زیرِ غور رہتی ہیں، تاہم نئی انتظامی اکائیاں بنانے یا صوبے کی تقسیم کے معاملے پر سندھ میں ہمیشہ سے سخت سیاسی مخالفت دیکھی گئی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس بات پر زور دیا ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر عوام کے حقیقی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے اور ایسی تقسیماًت سے گریز کرنا چاہیے جو صوبائی ہم آہنگی کو نقصان پہنچائیں۔ آنے والے دنوں میں اس موضوع پر سیاسی جماعتوں کے درمیان مزید بیان بازی متوقع ہے، لیکن سندھ حکومت کا موقف اس معاملے پر بالکل واضح اور دوٹوک دکھائی دیتا ہے۔