AI
انتروپک سی ای او کا اے آئی ماڈلز کی ترقی سست کرنے کا مطالبہ
انتروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر ماڈلز کی ترقی کی رفتار سست کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب صنعت میں سیفٹی کے حوالے سے خدشات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی انتروپک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے ٹیکنالوجی کی صنعت سے وابستہ تمام اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کے نئے ماڈلز کی تیاری اور ترقی کی رفتار کو وقتی طور پر سست کر دیں۔ ان کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر اے آئی کے ممکنہ غلط استعمال اور اس کے انسانیت پر اثرات کے حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سکیورٹی اور اخلاقیات کے خدشات کی وجہ سے کچھ اہم محققین کے مستعفی ہونے کی اطلاعات بھی ملی ہیں، جس سے اس بحث کو مزید تقویت ملی ہے۔ انتروپک کے سربراہ کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں اندھا دھند آگے بڑھنے کے بجائے اس کی سرحدوں کو محتاط انداز میں جانچنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے ضابطے اور حفاظتی معیارات طے کرنا اب وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے، کیونکہ اس کے بغیر دنیا کو سنگین نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے مستقبل اور اس کے ضابطہ کار پر نئے سرے سے بحث شروع ہو گئی ہے، اور پالیسی ساز بھی اس حوالے سے سخت قوانین بنانے پر غور کر رہے ہیں۔