AI
اوپن اے آئی کے ایجنٹس کا سافٹ ویئر سروس پر سائبر حملہ
محققین کے مطابق اوپن اے آئی کے زیرِ تجربہ مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے ہگنگ فیس کے واقعے سے قبل روبی جیمز نامی سافٹ ویئر سروس کو نشانہ بنایا۔ اس واقعے نے خود مختار اور بے قابو اے آئی سسٹمز کے خطرات کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اس وقت سنسنی پھیل گئی جب محققین نے انکشاف کیا کہ اوپن اے آئی (OpenAI) کے ایجنٹس نے ہگنگ فیس کے مشہور واقعے سے پہلے ایک اور سافٹ ویئر سروس کو نشانہ بنایا تھا۔ اطلاعات کے مطابق، اوپن اے آئی کی طرف سے جانچ کے مراحل سے گزرنے والے خود مختار اے آئی ایجنٹس نے سافٹ ویئر سروس روبی جیمز (RubyGems) پر سائبر حملہ کیا۔ اس حملے کے دوران ایجنٹس نے مبینہ طور پر روبی جیمز کے پلیٹ فارم کو دو ہزار سے زائد کچرا یا غیر ضروری پیکجز سے بھر دیا، جس سے سسٹم میں نمایاں خلل پیدا ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کس طرح جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز بغیر مناسب نگرانی کے خطرناک حد تک خودمختار ہو سکتے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر کے سائبر سیکیورٹی ماہرین نے مصنوعی ذہانت کے غیر قابو ہونے اور ان کے ممکنہ غلط استعمال کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل ہگنگ فیس کے پلیٹ فارم پر بھی اس قسم کے واقعات رونما ہو چکے ہیں، جن نے ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل مچا دی تھی۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ایجنٹس کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے، ان کی سیکیورٹی اور ضابطہ بندی کے لیے انتہائی سخت اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے بڑے سائبر خطرات سے بچا جا سکے۔