LIVE
Loading Breaking News...

بحیرہ سیاہ میں ڈرون کشتیوں کی پہلی تاریخی بحری جنگ

News Image
بحیرہ سیاہ کے پانیوں میں بغیر پائلٹ کے چلنے والی سمندری کشتیوں یعنی ڈرونز کے درمیان تاریخ کی پہلی بحری جنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس انوکھے معرکے نے مستقبل کی جنگی حکمت عملیوں اور جدید عسکری ٹیکنالوجی کے نئے دور کا آغاز کر دیا ہے۔
بحیرہ سیاہ کے خطے میں عسکری تاریخ کا ایک انوکھا اور غیر معمولی واقعہ پیش آیا ہے جہاں دو بغیر پائلٹ کی سمندری کشتیوں یعنی ان مین ڈرونز کے درمیان دنیا کی پہلی باقاعدہ بحری جنگ لڑی گئی ہے۔ اس واقعے نے دفاعی ماہرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے کیونکہ روایتی جنگی جہازوں کی بجائے اب سمندر میں بھی خودکار اور روبوٹک سسٹمز کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جدید جنگی ٹیکنالوجی کے اس نئے باب نے ثابت کر دیا ہے کہ آنے والے وقتوں میں جنگوں کا رخ مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ تنازعہ بحیرہ سیاہ میں پیش آیا جہاں یہ جدید بغیر پائلٹ بحری جہاز ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئے۔ ان ڈرون کشتیوں کو مختلف سنسرز، کیمروں اور خودکار ہتھیاروں سے لیس کیا گیا تھا تاکہ وہ انسانی مداخلت کے بغیر دشمن کے اہداف کا نشانہ بن سکیں۔ اس نوعیت کا پہلا تصادم اس بات کا غماز ہے کہ اب بحری جنگیں بھی روایتی بحری بیڑوں سے نکل کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور ریموٹ کنٹرول سسٹمز کی طرف منتقل ہو رہی ہیں، جو کہ جنگی میدان میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد دنیا بھر کی بحری افواج اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کریں گی۔ بغیر پائلٹ کے سمندری جہاز نہ صرف سستے پڑتے ہیں بلکہ ان میں انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقتیں اس ٹیکنالوجی پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ بحیرہ سیاہ میں پیش آنے والا یہ معرکہ مستقبل کی جنگوں کا ایک پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے جہاں انسانوں کی بجائے مشینیں میدان جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گی۔