Education
کالج طلباء اور آزادی اظہار: تیس فیصد طلباء کا تشدد کی حمایت کا انکشاف
ایک نئے قومی سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ تقریباً تیس فیصد کالج طلباء یونیورسٹی کے احاطے میں متنازع مقررین کو روکنے کے لیے تشدد کے استعمال کو جائز قرار دیتے ہیں۔ یہ رجحان تعلیمی اداروں میں اظہارِ رائے کی آزادی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کو ظاہر کرتا ہے۔
ایک نئے قومی سروے کے نتائج نے تعلیمی ماہرین اور سول سوسائٹی کے حلقوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ سروے کے مطابق تقریباً تیس فیصد کالج طلباء کا یہ ماننا ہے کہ اگر کسی تقریب میں کوئی ایسا مقرر آ رہا ہو جس کے خیالات سے وہ اختلاف رکھتے ہوں، تو اسے روکنے کے لیے تشدد کا استعمال ایک قابلِ قبول طریقہ ہے۔ یہ سروے ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں اظہارِ رائے کی آزادی، نظریاتی اختلاف اور کیمپس کے پرامن ماحول کو برقرار رکھنے کے حوالے سے مباحثے عروج پر ہیں۔
فائنڈنگ فار انڈیویجوئਲ رائٹس اینڈ ایکسپریشن کے تحت کیے جانے والے اس تحقیقی جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طلباء کی ایک قابلِ ذکر اقلیت اب بحث و مباحثے کے روایتی طریقوں کے بجائے براہِ راست مداخلت اور سختی پر یقین رکھتی ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ یہ رجحان نہ صرف اعلیٰ تعلیمی اداروں کے بنیادی مقاصد کے منافی ہے بلکہ یہ طلباء میں برداشت کے مادہ کی کمی اور انتہا پسندانہ سوچ کے فروغ کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یونیورسٹیوں میں مختلف آراء کا سامنا کرنے اور ان کا علمی جواب دینے کے بجائے جسمانی رکاوٹیں کھڑی کرنے کا رحجان جمہوری اقدار کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
سروے کے نتائج میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ طلباء کی اکثریت اب بھی پرامن احتجاج اور جمہوری طریقوں کو ترجیح دیتی ہے، تاہم تیس فیصد کی یہ شرح تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سوشل میڈیا اور سیاسی پولرائزیشن نے نوجوان نسل کی سوچ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، جس کی وجہ سے وہ نظریاتی اختلافات کو برداشت کرنے سے قاصر ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ کے سامنے اب یہ ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے کہ وہ کیمپس میں قانون کی حکمرانی اور پرامن ماحول کو کیسے یقینی بنائیں جبکہ طلباء کے مابین مکالمے کی فضا کو بھی بحال رکھا جا سکے۔