Technology
سورج نے سیارے کو نگل لیا: نئی سائنسی تحقیق کا انکشاف
ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہمارے سورج نے اربوں سال پہلے زمین کے سائز کے ایک سیارے کو نگل لیا ہوگا۔ اس واقعے کے شواہد اب بھی سورج کی ترکیب میں ایک منفرد انگلی کے نشان کی صورت میں موجود ہیں۔
سائنسدانوں نے خلا میں ایک انتہائی حیرت انگیز انکشاف کیا ہے جس کے مطابق ہمارے سورج نے ماضی میں زمین کے سائز کے ایک سیارے کو نگل لیا ہو گا۔ اس نئی تحقیق نے فلکیات کی دنیا میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب اس قسم کے واقعے کے ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سورج نے اس سیارے کو ہضم کرنے کے بعد اپنے اندر اس کا ایک ایسا نشان یا انگلی کا نشان چھوڑ دیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سورج ماضی میں کچھ ایسے سیاروں کو کھا چکا ہے۔ یہ تحقیق نامور سائنسی جریدے 'منتھلی نوٹس' میں شائع ہوئی ہے جس میں سورج اور دیگر ستاروں کے کیمیائی مرکبات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا ہے۔
محققین کے مطابق ستاروں کی ساخت اور ان میں پائے جانے والے عناصر کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ آیا اس ستارے نے کبھی اپنے نظام شمسی کے کسی سیارے کو نگلا ہے یا نہیں۔ جب کوئی ستارہ کسی سیارے کو اپنی کشش ثقل کے ذریعے اندر کھینچتا ہے یا نگل لیتا ہے تو اس ستارے کے ماحول میں کچھ خاص قسم کے عناصر کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو عام طور پر وہاں نہیں ہونے چاہئیں۔ اس تحقیق میں سورج کے اندر پائے جانے والے مادوں کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا گیا جس سے یہ انکشاف ہوا کہ سورج کی کیمیائی ساخت میں کچھ غیر معمولی تبدیلیاں موجود ہیں جو سیاروں کے ملبے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
یہ تحقیق نہ صرف ہمارے نظام شمسی کی تاریخ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی بلکہ یہ کائنات کے دیگر ستاروں کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرتی ہے۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ نظام شمسی کی ابتداء کے دوران مداروں میں ہلچل اور کشش ثقل کی تبدیلیوں کی وجہ سے کئی سیارے اپنی جگہ سے ہٹ گئے ہوں گے یا ستاروں کا لقمہ بن گئے ہوں گے۔ اس قسم کے مطالعے سے سائنسدانوں کو یہ جاننے میں مدد ملے گی کہ کائنات میں سیارے کتنی کثرت سے تباہ ہوتے ہیں اور ستارے انہیں کس طرح اپنے اندر جذب کر لیتے ہیں۔
اگرچہ یہ خیال بہت خوفناک لگ سکتا ہے کہ ہمارا سورج ایک سیارے کو نگل چکا ہے، لیکن ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ کائنات کا ایک قدرتی عمل ہے۔ نظام شمسی کے ابتدائی دنوں میں افراتفری کا دور دورہ تھا اور اس طرح کے واقعات رونما ہونا معمول کی بات تھی۔ موجودہ تحقیق اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ کائنات میں ستاروں اور سیاروں کا آپس میں ٹکراؤ اور جذب ہونے کا عمل کس طرح ستاروں کی ظاہری اور باطنی حالت کو تبدیل کرتا ہے۔ سائنسدان اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اس بات کی حتمی تصدیق کی جا سکے کہ کون سا سیارہ اس عمل کا شکار ہوا تھا۔