Politics
نیوزی لینڈ انتخابات 2026: ٹیکسز نہیں اخراجات میں کمی کی ضرورت
معروف ماہر اور مصنف بروس کوٹریل نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے جہاں معیشت کو بہتر بنانے کے لیے نئے ٹیکس لگانے کی بجائے اخراجات میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو پائیدار مالیاتی پالیسیاں اپنانا ہوں گی۔
نیوزی لینڈ اس وقت اپنی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں آنے والے انتخابات ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔ معروف مصنف اور معاشی تجزیہ کار بروس کوٹریل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہر الیکشن کے موقع پر یہی کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے اہم ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں کے دوران ملک نے مطلوبہ معاشی اہداف حاصل نہیں کیے اور بحران بدستور برقرار ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ملکی حالات میں عوام پر نئے اور بوجھل ٹیکس عائد کرنے کے بجائے حکومتی سطح پر اخراجات کو بہتر بنانے اور ان میں نمایاں کمی لانے کی ضرورت ہے۔ بروس کوٹریل نے مزید کہا کہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کو فضول خرچی پر قابو پانا ہوگا تاکہ عام شہریوں اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ ملک میں ٹیکسوں کا موجودہ نظام پہلے ہی کافی دباؤ کا شکار ہے اور مزید ٹیکس لگانے سے معاشی سرگرمیاں تیز ہونے کے بجائے مزید سست ہو سکتی ہیں۔ اس کے بجائے، تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے انتخابی منشور میں مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری فنڈز کے شفاف استعمال کو ترجیح دیں۔ آنے والے الخابات کے تناظر میں، ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ووٹرز اس بار روایتی وعدوں سے ہٹ کر عملی معاشی حل تلاش کر رہے ہیں، اور جو بھی سیاسی جماعت معیشت کو سنبھالا دینے کے لیے موثر لائحہ عمل پیش کرے گی، وہی عوام کا اعتماد جیتنے میں کامیاب ہوگی۔