LIVE
Loading Breaking News...

عالمی جی ڈی پی اور اے آئی کی پیشگوئی 2037 تک

News Image
نیکسٹ بگ فیوچر کی جاری کردہ نئی رپورٹ میں سال 2024 سے 2037 تک قوت خرید کی برابری یعنی پی پی پی کی بنیاد پر عالمی جی ڈی پی کا تفصیلی تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔ اس پیشگوئی میں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے معاشی اثرات کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
معاشی تخمینوں کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2024 سے 2037 تک کا دورانیہ دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے انقلابی ثابت ہو سکتا ہے۔ نیکسٹ بگ فیوچر کی جانب سے جاری کردہ اس نئے معاشی منظر نامے میں روایتی بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے برعکس مستقبل کی پیشگوئیوں کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے عوامل کو شامل کیا گیا ہے۔ اس ماڈل میں بیس کیس کے ساتھ ساتھ انتہائی مثبت یا بشاش معاشی صورتحال کا بھی احاطہ کیا گیا ہے تاکہ ٹیکنالوجی کے تیز رفتار نفاذ کے اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کی یہ لہر روایتی پیداواری صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھا دے گی۔ رپورٹ کی تیاری کے دوران تائیوان اور دیگر اہم ممالک کے قومی ڈیٹا کو بھی موجودہ سال کے تناظر میں مربوط کیا گیا ہے۔ اس عمل کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی صنعتی پیداوار کا صحیح تخمینہ لگایا جا سکے۔ اے آئی اور روبوٹکس کی شمولیت سے نہ صرف کارخانوں اور دفاتر میں کام کرنے کے انداز بدلیں گے بلکہ مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی کی شرح میں بھی غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ آنے والے برسوں میں جن ملکوں نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے بنیادی ڈھانچے میں بروقت سرمایہ کاری کی، وہ عالمی معاشی درجہ بندی میں نمایاں بہتری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس رپورٹ کے نتائج پالیسی سازوں اور کاروباری رہنماؤں کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں جو مستقبل کی سرمایہ کاری کی حکمت عملی تیار کر رہے ہیں۔