LIVE
Loading Breaking News...

گرانڈ کون کنونشن میں اے آئی آرٹ پر پابندی اور فنکاروں کا مؤقف

News Image
شمالی البرٹا کے مقبول عام پاپ کلچر کنونشن گرانڈ کون میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے تیار کردہ آرٹ پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ منتظمین اور فنکاروں کا کہنا ہے کہ یہ قدم انسانی تخلیقی صلاحیتوں کے تحفظ اور حقیقی فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
کینیڈا کے شمالی علاقے البرٹا میں منعقد ہونے والے سالانہ تفریحی اور مزاحیہ کتابوں کے مشہور کنونشن 'گرانڈ کون' (Grande Con) کے منتظمین نے اس سال کے میلے میں ایک بڑا اور اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس سال اس ایونٹ میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ کسی بھی قسم کے فن پاروں کی نمائش اور فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ منتظمین کا ماننا ہے کہ یہ اقدام تخلیقی صنعت سے وابستہ اصل فنکاروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری تھا۔ اس سالانہ تفریحی میلے میں جہاں ایک طرف شوبز کی معروف شخصیات کے پینلز، شاندار ملبوسات، گیمنگ اور دیگر پرکشش سرگرمیاں شامل ہیں، وہیں اے آئی پر پابندی کا فیصلہ فنکاروں کی طرف سے انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ آرٹسٹ کمیونٹی کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت جس تیزی سے فنونِ لطیفہ کے شعبے میں دراندازی کر رہی ہے، اس سے انسانی صلاحیتوں اور محنت سے تیار کردہ آرٹ کی قدر گھٹ رہی ہے۔ اے آئی سے بنے آرٹ کو کنونشن سے باہر رکھنا اصل اور روایتی فنکاروں کے لیے زندگی کی سانس کی مانند ہے۔ حالیہ برسوں میں دنیا بھر میں یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے ذریعے تخلیق کردہ مواد کو اصلی آرٹ کا درجہ دیا جانا چاہیے یا نہیں۔ بہت سے ناقدین کا مؤقف ہے کہ اے آئی سسٹمز اکثر بغیر اجازت اصلی فنکاروں کے کام کو بطور ڈیٹا استعمال کرتے ہیں، جس سے کاپی رائٹ اور اخلاقیات کے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔ گرانڈ کون کا یہ فیصلہ اس تناظر میں ایک بڑی مثال بن کر ابھرا ہے، جو دیگر ثقافتی میلوں اور نمائشوں کے لیے بھی ایک لائحہ عمل فراہم کر سکتا ہے۔ کنونشن کی انتظامیہ کا عزم ہے کہ وہ آئندہ بھی مقامی اور بین الاقوامی انسانی فنکاروں کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے۔ اس پابندی کے نفاذ سے نہ صرف خریداروں کو حقیقی اور ہاتھ سے بنے فن پاروں تک رسائی ملے گی بلکہ نوجوان فنکاروں کو بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کو منوانے کا بہترین موقع فراہم ہوگا۔ شرکاء اور شائقین کی طرف سے بھی اس فیصلے پر مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے، جو اس بات کا غماز ہے کہ معاشرہ انسانی تخلیق اور محنت کو ہمیشہ اولیت دیتا ہے۔