LIVE
Loading Breaking News...

فلاک سیفٹی سرویلنس سسٹم کو بڑا دھچکا، متعدد شہروں میں کنٹریکٹ ختم

News Image
پرائیویسی کے کارکنوں کے مطابق فلاک سیفٹی کو اپنے صارفین کی شرح میں بے مثال کمی کا سامنا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں اور علاقوں میں اس سرویلنس ٹیکنالوجی کو ہٹایا جا رہا ہے۔
فلاک سیفٹی کمپنی کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ پرائیویسی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عام شہریوں کی جانب سے اس کے سرویلنس سسٹمز کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے۔ پرائیویسی ایکٹیوسٹ گروپ سیکیور جسٹس کی جانب سے اکٹھے کیے گئے ڈیٹا کے مطابق، فلاک سیفٹی کو ایسے مسائل کا سامنا ہے جن کا اندازہ خود کمپنی کو بھی نہیں تھا۔ یہ کمپنی اس وقت تیزی سے اپنے صارفین کو کھو رہی ہے اور کئی مقامات پر اس کی سروسز کو بند کیا جا رہا ہے۔ حاصل شدہ معلومات کے مطابق، دو سو سے زائد شہروں اور مقامی اداروں نے فلاک سیفٹی کے ساتھ اپنے معاہدوں پر نظر ثانی کی ہے یا انہیں مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ شہریوں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس قسم کے خودکار کیمرے اور لائسنس پلیٹ ریڈر سسٹمز عوام کی نجی زندگی میں مداخلت کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا کے تحفظ اور اس کے غلط استعمال کے خدشات بھی اس بات کی بڑی وجہ ہیں کہ ریڈ اسٹیٹس اور پولیس نواز سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی اب اس ٹیکنالوجی کو ناپسند کیا جا رہا ہے۔ فلاک سیفٹی کی جانب سے ان الزامات اور صارفین کی کمی کے رجحان پر توازن برقرار رکھنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ پرائیویسی کے مسائل نے اس بزنس ماڈل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی اداروں کی جانب سے اس طرح کے اقدامات اٹھائے جانے سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے عوام کا اعتماد بحال کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ دیگر شہر بھی اس رجحان کی پیروی کرتے ہوئے اس قسم کے نگرانی کے آلات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ شہریوں کے بنیادی حقوق کی تنظیمیں مسلسل اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ پبلک مقامات پر سیفٹی کے نام پر شہریوں کی جاسوس نما مانیٹرنگ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہونی چاہیے۔ فلاک سیفٹی کے لیے اس صورتحال سے نکلنا انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے۔