Business
جِم کریمر کی تجزیاتی رپورٹ: تیل کی قیمتوں میں کمی اور فیڈرل ریزرو کا اثر
مشرقِ وسطیٰ اور عالمی منڈی میں تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں نے حصص بازار کو نئی زندگی بخشی ہے۔ تاہم، سرمایہ کاروں کی اگلی بڑی توجہ فیڈرل ریزرو کے آئندہ اجلاس پر مرکوز ہے۔
معروف مالیاتی تجزیہ کار جِم کریمر نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی نمایاں کمی نے حصص بازار کو ایک بار پھر سنبھلنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ توانائی کی لاگت میں کمی افراطِ زر کے دباؤ کو کم کرتی ہے، جس سے سرمایہ کاروں میں اعتماد کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس مثبت رجحان کی بدولت حالیہ دنوں میں اسٹاک مارکیٹ کے کئی اہم اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور مارکیٹ کے شرکاء نے سکھ کا سانس لیا ہے۔تاہم، جِم کریمر نے خبردار کیا ہے کہ اس وقتی بہتری کے باوجود سرمایہ کاروں کو غفلت کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ آنے والے ہفتے میں امریکی مرکزی بینک یعنی فیڈرل ریزرو کا اجلاس منعقد ہونے جا رہا ہے، جو معاشی سمت کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گا۔ شرح سود کے حوالے سے مرکزی بینک کا کوئی بھی سخت یا غیر متوقع فیصلہ مارکیٹ کے تمام مثبت اثرات کو زائل کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کے سرمایہ کار اس اجلاس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے فیڈرل ریزرو کی پالیسیاں انتہائی حساس نوعیت کی حامل ہیں۔ اگرچہ تیل کی سستی قیمتیں معیشت کو سہارا دے رہی ہیں، لیکن روزگار کے اعداد و شمار اور مہنگائی کی شرح اب بھی مرکزی بینک کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ جِم کریمر نے سرمایہ کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ محتاط حکمتِ عملی اپنائیں اور آنے والے دنوں میں اتار چڑھاؤ کے لیے تیار رہیں، کیونکہ فیڈرل ریزرو کے بیانات مارکیٹ کو کسی بھی طرف موڑ سکتے ہیں۔