LIVE
Loading Breaking News...

روبن ہڈ چین اور ڈی سینٹرلائزیشن: آربی ٹرم کے کو فاؤنڈر کی وضاحت

News Image
آربی ٹرم کے کو فاؤنڈر نے روبن ہڈ چین میں ڈی سینٹرلائزیشن کے امور اور سیکیونسر کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے جوابات دیے۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بلاک چین نیٹ ورک کی سیکیورٹی اور گورننس کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
آربی ٹرم کے کو فاؤنڈر نے حالیہ دنوں میں روبن ہڈ چین کے حوالے سے بڑھتے ہوئے ڈی سینٹرلائزیشن کے خدشات پر کھل کر بات کی ہے۔ کرپٹو کرنسی اور بلاک چین کے حلقوں میں اس بات پر کافی بحث جاری ہے کہ آیا نئے نیٹ ورکس مکمل طور پر غیر مرکزی نوعیت کے حامل ہیں یا نہیں۔ کو فاؤنڈر کا کہنا ہے کہ روبن ہڈ چین جیسے نیٹ ورکس کے لیے سیکیونسر کو ڈی سینٹرلائز کرنا ناگزیر ہے تاکہ سینسرشپ کے خلاف مزاحمت کو یقینی بنایا جا سکے اور صارفین کا اعتماد بحال رہے۔ ماہرین کے مطابق، بلاک چین کے ماحولیاتی نظام میں سیکیونسر کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے کیونکہ یہ ٹرانزیکشنز کو ترتیب دینے اور ان کی توثیق کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اگر سیکیونسر مرکزی نوعیت کا ہو تو نیٹ ورک کے اندر حکمرانی اور ریونیو کے حوالے سے کئی طرح کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس صورتحال میں روبن ہڈ چین کے تنظیمی ڈھانچے پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آیا یہ روایتی فنانس اور ڈی سینٹرلائزڈ فنانس کے درمیان توازن قائم رکھ پائے گا یا نہیں۔ کرپٹو انڈسٹری کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف بلاک چین ٹیکنالوجی کی شفافیت میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس کے طویل المدتی فوائد بھی سامنے آتے ہیں۔ آربی ٹرم کے کو فاؤنڈر کی جانب سے دیے گئے بیانات سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ مستقبل کے مالیاتی نظاموں میں شفافیت اور وکندریقرت کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ روبن ہڈ چین اس حوالے سے کیا لائحہ عمل اختیار کرتا ہے۔