Health
نوجوانوں میں دانت پیسنے کی عادت اور اس کا علاج
ماہرین دندان نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں دانت پیسنے کی عادت تیزی سے بڑھ رہی ہے جس سے صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے کا بروقت علاج زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتا ہے اور دانتوں کو مستقل نقصان سے بچا سکتا ہے۔
موجودہ دور میں ماہرینِ دندان نے ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کی ہے جس کے مطابق نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دانت پیسنے کی خاموش عادت میں مبتلا ہو رہی ہے۔ طبی اصطلاح میں اسے برکسزم کہا جاتا ہے، جس میں افراد نادانستہ طور پر اپنے دانتوں کو آپس میں زور سے رگڑتے ہیں یا دباتے ہیں۔ دلچسپ اور خطرناک بات یہ ہے کہ لاکھوں لوگ یہ فعل انجام دیتے ہیں لیکن ان میں سے اکثر کو اس کا احساس تک نہیں ہوتا جب تک کہ کوئی بڑا طبی مسئلہ سامنے نہ آ جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ عادت عموماً رات کے وقت نیند میں ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کو خود معلوم نہیں ہو پاتا۔
اس عادت کے پیچھے کئی پوشیدہ وجوہات کارفرما ہو سکتی ہیں جن میں روزمرہ کی زندگی کا شدید ذہنی دباؤ، بے چینی، روزمرہ کے تناؤ اور جسمانی تھکن سرفہرست ہیں۔ جب انسان ذہنی دباؤ کا شکار ہوتا ہے تو اس کا لاشعوری اثر اس کے جسمانی اعصاب پر پڑتا ہے، بالخصوص جبڑے کے پٹھے اس کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس کے علاوہ غلط انداز میں دانتوں کا جڑنا یا دیگر جسمانی بیماریاں بھی اس کا سبب بن سکتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ دانت پیسنے سے دانتوں کی اوپری سطح گھس جاتی ہے، مسوڑھے کمزور ہو جاتے ہیں، اور جبڑے میں شدید درد یا سر درد کی شکایت مستقل بن جاتی ہے۔
خوش قسمتی سے اس مسئلے کا علاج ممکن ہے اور صحیح وقت پر درست علاج حاصل کرنا کسی بھی شخص کی زندگی کے لیے تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین دندان مریض کی حالت کا جائزہ لے کر خصوصی نائٹ گارڈ یا سپلنٹس تجویز کرتے ہیں جو سونے کے دوران دانتوں کو آپس میں رگڑنے سے محفوظ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذہنی دباؤ کو کم کرنے کے لیے یوگا، مراقبہ اور مشاورت بھی اس کے تدارک میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اگر آپ کو بھی صبح اٹھتے وقت جبڑے میں درد یا دانتوں میں حساسیت محسوس ہوتی ہے تو فوری طور پر اپنے ڈینٹسٹ سے رجوع کرنا چاہیے۔
نیکسورا نیوز اردو کی اس رپورٹ کے مطابق، صحت مند زندگی کے لیے دانتوں کی حفاظت کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ صرف دانتوں کو بچاتا ہے بلکہ پرسکون نیند اور بہتر مجموعی صحت کی ضمانت بھی فراہم کرتا ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اپنی ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ جسمانی علامات پر بھی توجہ دیں تاکہ طویل المیعاد پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔